بھارت کے آزادیٔ اظہارِ رائے کے منافی فیصلے کیخلاف اپیل کریں گے؛ ایلون مسک
اشاعت کی تاریخ: 29th, September 2025 GMT
ایلون مسک کی سوشل میڈیا کمپنی ایکس نے بھارتی ریاست کرناٹک ہائی کورٹ کے متنازع فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا اعلان کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارت میں دو ملین سے زائد پولیس افسران کو ایک خفیہ آن لائن پورٹل کے ذریعے کسی بھی مواد کو ہٹانے کی درخواست کرنے کا اختیار دے دیا گیا ہے۔
ایلون مسک کی کمپنی نے اس فیصلے کو آزادیٔ اظہار رائے کے منافی قرار دیتے ہوئے اعلان کیا کہ اس پر انتہائی تشویش ہے اور جلد اس کے خلاف اپیل کریں گے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ پورٹل افسران کو صرف غیر قانونی ہونے کے الزام پر بغیر تصدیق اور تحقیق کے ہی مواد ہٹانے کا حکم دینے کی اجازت دیتا ہے۔
اس سلسلے میں نہ تو قانونی طریقہ کار اپنایا جائے گا اور نہ ہی عدالتی نظرثانی شامل ہے جب کہ عدم تعمیل کی صورت میں پلیٹ فارمز کو مجرمانہ کارروائی کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
یاد رہے کہ کرناٹک ہائی کورٹ نے گزشتہ ہفتے ایکس کی وفاقی وزارتِ داخلہ کے اس پورٹل کے خلاف درخواست کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ کمپنی کا چیلنج بے بنیاد ہے۔
یہ بھی ذہن نشین رہے کہ گوگل، ایمیزون اور میٹا نے اس نظام کو اپنانے پر آمادگی ظاہر کی تھی تاہم X نے اس سے انکار کر دیا تھا۔
کمپنی کا موقف ہے کہ حکومت "آئی ٹی ایکٹ" کے سیکشن 69A کے تحت متعین قانونی عمل کو بائی پاس کر کے مواد ہٹانے کے اختیارات کا غلط استعمال کر رہی ہے۔
ایلون مسک کی کمپنی X نے کہا کہ نیا نظام نہ صرف 2015ء کی بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی کرتا ہے بلکہ آئین میں دیے گئے شہریوں کے اظہارِ رائے کی آزادی کو بھی مجروح کرتا ہے۔
دوسری جانب حکومت کا موقف ہے کہ قانون کے سیکشن 79(3)(b) کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو 36 گھنٹوں کے اندر مواد ہٹانے کا پابند بنایا گیا ہے اور عدم تعاون پر انہیں جواب دہ ہونا پڑے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایلون مسک
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔