عمران خان کا سخت موقف پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات کا سبب بننے لگا
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے پیر کے روز الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان مذاکرات کے بجائے انتشار چاہتے ہیں۔ یہ دعویٰ دلچسپ طور پر پی ٹی آئی کی اپنی صفوں میں بڑھتی ہوئی مایوسی سے مطابقت رکھتا ہے، جہاں کئی سینئر رہنما اپنے چیئرمین کو مفاہمت کی راہ اختیار کرنے پر قائل کرنے میں ناکام دکھائی دے رہے ہیں۔ دی نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ حکومت بشمول وزیراعظم نے متعدد مرتبہ پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیشکش کی لیکن ہر بار اسے رد کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان بات چیت نہیں چاہتے، وہ انتشار چاہتے ہیں، وہ اپنے حامیوں کو احتجاج اور تشدد پر اکسانے کے ہر ممکن طریقے استعمال کر رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی کیفیت پی ٹی آئی کے اندر بھی نظر آتی ہے۔ پارٹی کے اندرونی ذرائع کے مطابق، اگرچہ بیشتر پارلیمانی ارکان سیاسی مذاکرات کے خواہاں ہیں، عمران خان اس راستے پر چلنے کیلئے تیار نہیں۔ پی ٹی آئی کے ایک سینئر رہنما نے دی نیوز کو بتایا کہ کوششیں جاری ہیں کہ عمران خان کو اس بات پر راضی کیا جا سکے کہ پارٹی بغیر کسی پیشگی شرط یا ڈیڈ لائن کے مذاکرات کرے۔ انہوں نے کہا کہ علی امین گنڈاپور اور بیرسٹر گوہر سمیت دیگر رہنمائوں سے کہا گیا ہے کہ مذاکرات کا منصفانہ موقع دینے کیلئے عمران خان کو راضی کریں۔ حکومت کو بھی چاہئے کہ مذاکرات کے دروازے کھلے رکھے اور ہماری دوسری صف کی قیادت کو موقع دے کہ وہ انہیں قائل کر سکیں۔ پی ٹی آئی ذرائع نے تصدیق کی کہ خیبر پختونخوا کے وزیرِاعلیٰ علی امین گنڈاپور ان رہنمائوں میں شامل ہیں جو مذاکرات کے زبردست حامی ہیں۔ ان کی رائے ہے کہ بات چیت پارٹی کیلئے سیاسی گنجائش پیدا کرنے اور جیلوں میں قید قیادت بشمول عمران خان کیلئے ریلیف حاصل کرنے کیلئے ناگزیر ہے۔ گنڈاپور نے پیر کو اڈیالہ جیل میں عمران خان سے تفصیلی ملاقات بھی کی، تاہم اس ملاقات کا نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ پارٹی کے اندرونی مسائل میں اضافہ سوشل میڈیا ٹیموں اور یوٹیوبرز کے رویے سے بڑھتی ہوئی ناراضی ہے۔ کئی رہنما نجی طور پر شکایت کرتے ہیں کہ اپنی ہی ڈیجیٹل ٹیم کی مسلسل آن لائن تنقید اندرونی بحث کو دبا دیتی ہے اور معتدل آراء کو پسپا ہونے پر مجبور کرتی ہے۔ پی ٹی آئی کے ایک سینئر رہنما نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم کھل کر اپنی رائے کا اظہار نہیں کر سکتے کیونکہ ناقد (ٹرولز) چاہتے ہیں کہ سب ان ہی کی طرح جارحانہ اور گالیوں پر مبنی رویہ اور موقف اختیار کریں۔ اگر یہ رویہ بند نہ ہوا تو اس سے صرف نفرت اور عدم برداشت پر مبنی انتہاپسندانہ خیالات مضبوط ہوں گے۔ پی ٹی آئی کی قیادت اور کارکنوں کے درمیان خلیج بڑھنے کے ساتھ، اور حکومت کی متعدد مرتبہ کی گئی پیشکشیں مسترد ہونے کے بعد، بامعنی سیاسی مذاکرات کے امکانات اب مزید غیر یقینی نظر آ رہے ہیں۔
انصار عباسی
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: مذاکرات کے پی ٹی ا ئی
پڑھیں:
وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔
سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزاماتبدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔
مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔
تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرارطالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔
اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میںرپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔
بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویررپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔
اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز