ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ‘ ملک بھر میں بجلی 19 پیسے یونٹ مہنگی
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) کے الیکٹرک سمیت ملک بھر کے صارفین کے لئے بجلی ایک ماہ کے لئے مہنگی کر دی گئی۔ ڈسکوز کے اگست کے ماہانہ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ سے متعلق نیپرا ہیڈ کوارٹر میں عوامی سماعت مکمل ہو گئی جس کے بعد اعلامیہ جاری کر دیا گیا۔ نیپرا اعلامیے کے مطابق عوامی سماعت چیئرمین نیپرا کی زیرصدارت ہوئی‘ جس میں سی پی پی اے جی کے عہدے دار‘ بزنس کمیونٹی‘ وزارت توانائی کے نمائندوں‘ صحافیوں اور عوام نے بھرپور شرکت کی۔ سی پی پی اے جی نے ایف سی اے کی مد میں 19 پیسے فی یونٹ اضافے کی درخواست جمع کروائی تھی‘ اس کا اطلاق صرف ایک ماہ کے لئے ہو گا۔ سی پی پی اے جی کے مطابق اس کا اطلاق ڈسکوز بشمول کے الیکٹرک کے تمام صارفین ماسوائے لائف لائن‘ پری پیڈ صارفین اور الیکٹرک وہیکل چارجنگ سٹیشنز پر ہو گا۔ نیپرا کے مطابق اتھارٹی نے تمام متعلقہ سٹیک ہولڈرز کی آراء کو سنا‘ اتھارٹی ڈیٹا کی مزید جانچ پڑتال کے بعد اپنا تفصیلی فیصلہ جاری کرے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔