چین سے ممکنہ تنازع: امریکا نے میزائلوں کی پیداوار 4 گنا بڑھانے کی تیاری شروع کر دی
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
واشنگٹن: امریکا نے دفاعی کمپنیوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ میزائلوں اور دیگر جدید ہتھیاروں کی پیداوار کو 2 سے 4 گنا تک بڑھائیں تاکہ چین کے ساتھ کسی بھی ممکنہ تنازع کی صورت میں اسلحے کی کمی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق پینٹاگون اپنے کمزور ہتھیاروں کے ذخائر پر شدید تشویش میں مبتلا ہے اور اس نے میزائل تیار کرنے والی بڑی کمپنیوں کو تیز رفتار پیداوار کا شیڈول دینے پر زور دیا ہے۔ اس مقصد کے لیے پینٹاگون کے اعلیٰ حکام اور لاک ہیڈ مارٹن، ریتھیون اور دیگر بڑی کمپنیوں کے ساتھ کئی اجلاس ہو چکے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کمپنیوں نے نئی بھرتیاں، فیکٹریوں کی توسیع اور پرزہ جات کے اضافی ذخائر کی تیاری شروع کر دی ہے۔ امریکا خاص طور پر پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائل، لانگ رینج اینٹی شپ میزائل اور اسٹینڈرڈ میزائل 6 کی بڑے پیمانے پر تیاری چاہتا ہے۔
ستمبر میں امریکی فوج نے لاک ہیڈ مارٹن کو تقریباً 10 ارب ڈالر کا معاہدہ دیا ہے جس کے تحت 2026 تک 2 ہزار سے زائد پیٹریاٹ میزائل تیار کیے جائیں گے۔ پینٹاگون چاہتا ہے کہ مستقبل میں یہ پیداواری رفتار ہر سال برقرار رکھی جائے تاکہ چین کے ساتھ کسی بھی ممکنہ تصادم میں اسلحے کی کمی نہ ہو۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے
تہران(نیوز ڈیسک) ایران اور عراق نے دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے چار معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کردیے۔
عراقی وزیراعظم کے دورہ تہران کے موقع پر معاہدوں پر دستخط کیے گئے، یہ معاہدے خسروی خانقین بغداد ریلوے کی تعمیر، بغداد اورتہران کو سسٹر سٹیز بنانے، پبلک ایڈمنسٹریشن میں تعاون، تربیت اور ہیومن ریسورس مینجمنٹ سے متعلق کیے گئے۔
معاہدے ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور عراقی وزیراعظم علی الزیدی کی موجودگی میں کیے گئے۔
صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ عراق سمیت پڑوسی ممالک سے تعلقات کو مضبوط بنانا ترجیح ہے۔
مزید پڑھیں۔’حکومت مان گئی‘ پٹرول ڈیلرز نے 15 روز کے لیے ملک گیر ہڑتال کی کال واپس لے لی