بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ تنازع کے خاتمے کے لیے 20 نکاتی منصوبے کے اعلان کا خیرمقدم کیا ہے۔

ایکس پر مودی نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم صدر ٹرمپ کے اس اعلان کا خیرمقدم کرتے ہیں جو غزہ میں تنازع کے خاتمے کے لیے ایک جامع منصوبہ پیش کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: ٹرمپ کا غزہ امن منصوبہ: نیتن یاہو کی حمایت حاصل، حماس کی منظوری باقی

ان کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ فلسطینی اور اسرائیلی عوام کے لیے امن، سلامتی اور پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرتا ہے اور پورے مشرقِ وسطیٰ کے خطے کے لیے بھی اہمیت رکھتا ہے۔

بھارتی وزیراعظم نے مزید کہا کہ امید ہے تمام فریقین صدر ٹرمپ کی اس اقدام کی حمایت کریں گے اور تنازع کے خاتمے اور امن کے قیام کے لیے متحد ہو جائیں گے۔

نرحب بإعلان الرئيس دونالد ترامب عن خطة شاملة لإنهاء الصراع في غزة.

فهي تُمهد الطريق نحو سلام وأمن وتنمية مستدامة وطويلة الأمد للشعبين الفلسطيني والإسرائيلي، وكذلك لمنطقة غرب آسيا ككل. ونأمل أن تتكاتف جميع الأطراف المعنية خلف مبادرة الرئيس ترامب، وأن تدعم هذا الجهد لإنهاء الصراع…

— Narendra Modi (@narendramodi) September 30, 2025

واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ تنازع کے حل کے لیے 20 نکاتی منصوبہ پیش کردیا ہے جو اسرائیلی حملوں کی روک تھام، حماس کی تحلیل اور یرغمالیوں کی واپسی پر مشتمل ہے۔

اس سے قبل پاکستان، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب، قطر اور مصر کے وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ کی جنگ کے خاتمے کے لیے کی جانے والی کوششوں اور 20 نکاتی منصوبے کا خیرمقدم کیا۔

 

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: کے خاتمے کے لیے کا خیرمقدم تنازع کے

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل