نریندر مودی کا غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے کا خیرمقدم
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ تنازع کے خاتمے کے لیے 20 نکاتی منصوبے کے اعلان کا خیرمقدم کیا ہے۔
ایکس پر مودی نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم صدر ٹرمپ کے اس اعلان کا خیرمقدم کرتے ہیں جو غزہ میں تنازع کے خاتمے کے لیے ایک جامع منصوبہ پیش کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ٹرمپ کا غزہ امن منصوبہ: نیتن یاہو کی حمایت حاصل، حماس کی منظوری باقی
ان کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ فلسطینی اور اسرائیلی عوام کے لیے امن، سلامتی اور پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرتا ہے اور پورے مشرقِ وسطیٰ کے خطے کے لیے بھی اہمیت رکھتا ہے۔
بھارتی وزیراعظم نے مزید کہا کہ امید ہے تمام فریقین صدر ٹرمپ کی اس اقدام کی حمایت کریں گے اور تنازع کے خاتمے اور امن کے قیام کے لیے متحد ہو جائیں گے۔
نرحب بإعلان الرئيس دونالد ترامب عن خطة شاملة لإنهاء الصراع في غزة.
— Narendra Modi (@narendramodi) September 30, 2025
واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ تنازع کے حل کے لیے 20 نکاتی منصوبہ پیش کردیا ہے جو اسرائیلی حملوں کی روک تھام، حماس کی تحلیل اور یرغمالیوں کی واپسی پر مشتمل ہے۔
اس سے قبل پاکستان، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب، قطر اور مصر کے وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ کی جنگ کے خاتمے کے لیے کی جانے والی کوششوں اور 20 نکاتی منصوبے کا خیرمقدم کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کے خاتمے کے لیے کا خیرمقدم تنازع کے
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔