آڈیو لیک کیس، عدالت کا علی امین کو گرفتار کر کے پیش کرنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
گنڈاپور کیخلاف آڈیو لیک کیس کی سماعت ،وزیراعلیٰ عدالت میں پیش نہیں ہوئے
عدالت نے عدم حاضری پر گنڈا پور کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے آڈیو لیک کیس میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیٔے۔پیر کو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نصر من اللہ بلوچ نے علی امین گنڈاپور کیخلاف آڈیو لیک کیس کی سماعت کی، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا عدالت میں پیش نہ ہوئے۔عدالت نے عدم حاضری پر علی امین گنڈا پور کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیٔے اور گرفتار کر کے پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 5 نومبر تک ملتوی کر دی۔یاد رہے کہ وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کے خلاف تھانہ گولڑہ میں مقدمہ درج ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: علی امین گنڈا ا ڈیو لیک کیس گنڈا پور کے
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔