پی ڈی پی کی طرح بی جے پی کا ہاتھ کبھی نہیں تھامیں گے، عمر عبداللہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
وزیراعلٰی نے دعویٰ کیا کہ انکا اولین مقصد عوامی مشکلات کا ازالہ ہے کیونکہ کشمیری عوام مودی حکومت سے صدقہ نہیں مانگتے بلکہ اپنی کھوئی ہوئی شناخت واپس چاہتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر کے وزیراعلٰی عمر عبداللہ نے ریاستی درجے کی بحالی کے لئے کسی بھی قیمت پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ساتھ ہاتھ ملانے کو خارج از امکان قرار دیا۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا اگر کبھی ایسا موقع آیا تو وہ وزیراعلیٰ کے عہدے سے مستعفی ہو جائیں گے۔ عمر عبداللہ نے دعویٰ کیا کہ ان کا اولین مقصد عوامی مشکلات کا ازالہ ہے کیونکہ کشمیری عوام مودی حکومت سے صدقہ نہیں مانگتے بلکہ اپنی کھوئی ہوئی شناخت واپس چاہتے ہیں۔ جنوبی کشمیر کے اننت ناگ ضلع کے اچھہ بل علاقے میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ حکومت سازی کے وقت ان کے سامنے دو راستے تھے، لیکن انہوں نے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) والا راستہ اختیار نہیں کیا جو پی ڈی پی نے 2015ء اور 2016ء میں اختیار کیا تھا، کیونکہ وہ عوامی امنگوں کے بر خلاف تھا۔
عمر عبداللہ کے مطابق آج ریاستی حکومت میں ہر خطے کو نمائندگی دی گئی ہے اور اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ نائب وزیراعلیٰ جموں سے تعلق رکھتے ہیں، جو ہماری جماعت کے ہمہ جہت اور سب کو ساتھ لے کر چلنے والی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔ وزیراعلیٰ نے دفعہ 370 کی تنسیخ پر خوشیاں منانے والوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا: 5 اگست 2019ء کا فیصلہ کسی کے لئے بھی قابل قبول نہیں رہا، جن لوگوں نے اُس خوشیاں منائیں اور مٹھائیاں تقسیم کیں، آج وہی لوگ شرمندہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لداخ کے عوام بھی اس وقت شدید پریشانیوں سے دوچار ہیں اور آج وہ بھی دفعہ 370 کی حمایت میں کھڑے ہیں۔
عمر عبداللہ نے اجتماع میں موجود عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کچھ عناصر یہ چاہتے ہیں کہ نیشنل کانفرنس عوام کو احتجاج کی راہ پر لے آئے، لیکن ہم کسی بھی صورت نہیں چاہتے کہ کشمیر کی سڑکیں ایک بار پھر معصوم عوام کے خون سے رنگین ہوں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہماری کوشش ہوگی کہ ہر مسئلے کو پُرامن طریقے سے حل کیا جائے اور ریاست کے لوگوں کو ایک بار پھر امن، خوشحالی اور باوقار زندگی فراہم کی جائے۔ جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ کے مطابق نیشنل کانفرنس (این سی) ہمیشہ عوامی خدمت اور جمہوری اقدار کی پاسداری کرتی رہی ہے اور آئندہ بھی عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچنے نہیں دے گی۔ اجتماع کے دوران علاقے کے ہزاروں لوگوں نے ان کے خیالات کو سراہتے ہوئے پرزور تالیوں کے ذریعے وزیر اعلیٰ کا حوصلہ بڑھایا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: عمر عبداللہ نے انہوں نے
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔