data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

حیدرآباد(اسٹاف رپوٹر)سندھ یونیورسٹی جامشورو کے مختلف شعبوں میں 59پروفیسرز اور 73ایسوسی ایٹ پروفیسرز کی غیر قانونی تقرریوں کے خلاف چیئرمین انکوائریز اور اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ، سروسز، جنرل ایڈمنسٹریشن اور کوآرڈینیشن ڈپارٹمنٹ کی جانب سے تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں سندھ یونیورسٹی میں پروفیسروں اور ایسوسی ایٹ پروفیسروں کی پوسٹوں پر تقرری کے لیے پیش کی گئی رپورٹس اور تحقیقی مقالات میں ہیر پھیر اور جعلسازی پر اینٹی کرپشن نے یونیورسٹی کے وائس چانسلر سے ایک ماہ کے اندر ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔ اینٹی کرپشن نے سندھ یونیورسٹی کے تمام شعبوں میں مکمل تحقیقات کرکے جلد رپورٹ چیئرمین اینٹی کرپشن کو پیش کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔ واضح رہے کہ سندھ یونیورسٹی کی فیکلٹی آف ایجوکیشن کی پی ایچ ڈی استاد ڈاکٹر شکیلہ شاہ نے ماہرین کی رپورٹس اور تحقیقی مقالات میں ہیر پھیر اور جعلسازی کے خلاف اینٹی کرپشن کو درخواست دی تھی جس پر اینٹی کرپشن نے یونیورسٹیز اینڈ بورڈز ڈپارٹمنٹ کو بھی خط لکھ کر ریکارڈ طلب کیا تھا۔ کل دوبارہ اینٹی کرپشن نے سندھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر سے براہِ راست 30دن کے اندر پروفیسروں اور ایسوسی ایٹ پروفیسروں کی بھرتیوں کا ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔ یاد رہے کہ وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ جو کہ یونیورسٹیوں کے چانسلر بھی ہیں، کو سندھ یونیورسٹی کے پروفیسروں، ایسوسی ایٹ پروفیسروں اور لیکچرارز کے سلیکشن بورڈز میں میرٹ کی خلاف ورزی اور من پسند اساتذہ کی تقرری کے خلاف مختلف شعبوں کے اساتذہ نے شکایات بھی کی ہیں۔ سندھ یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر صدیق کلہوڑو نے یونیورسٹی میں پروفیسروں اور ایسوسی ایٹ پروفیسروں کی تقرریاں کی تھیں جن کے لیے وزیر اعلی سندھ سے کوئی اجازت نہیں لی گئی تھی۔ اس حوالے سے خدشات آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی سندھ یونیورسٹی میں آڈٹ رپورٹ (مارچ 2025، مدت 2022تا 2024)میں بھی ظاہر کیے گئے ہیں، جس کے پیرا نمبر 4میں واضح ہدایات دی گئی ہیں کہ پروفیسروں اور ایسوسی ایٹ پروفیسروں کی بھرتیاں غیر قانونی طور پر کی گئی ہیں۔

اسٹاف رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سندھ یونیورسٹی کے اینٹی کرپشن نے یونیورسٹی میں

پڑھیں:

پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم

پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی اور علمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کو نئے کمپیوٹر عطیہ کر دیے، جبکہ پاکستانی ہائی کمیشن کے تعاون سے قائم جدید کمپیوٹر لیبارٹری اور تزئین و آرائش شدہ کلاس رومز کا بھی افتتاح کر دیا گیا۔

تقریب میں بنگلہ دیش میں پاکستان کے ہائی کمشنر عمران حیدر اور ڈھاکہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام نے مشترکہ طور پر کمپیوٹر لیب کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے تعلیم، تحقیق، ثقافتی روابط اور انسانی وسائل کی ترقی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔

ہائی کمشنر عمران حیدر نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کمپیوٹر لیب کا قیام صرف نئی سہولیات کی فراہمی نہیں بلکہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلیم، ثقافتی ہم آہنگی اور نئی نسل کے روشن مستقبل کے لیے مشترکہ عزم کی علامت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جدید لیبارٹری طلبہ اور اساتذہ کی صلاحیتوں میں اضافے، تحقیق کے فروغ اور معیاری تعلیم کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ تعلیم باہمی اعتماد، تعاون اور عوامی روابط کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ ہے، اسی مقصد کے تحت پاکستانی ہائی کمیشن مختلف تعلیمی اور علمی تعاون کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کی جامعات کے درمیان مشترکہ تحقیقی منصوبوں، اساتذہ اور طلبہ کے تبادلہ پروگرام، سمسٹر ایکسچینج، مشترکہ ڈگری پروگرامز اور قلیل مدتی تربیتی کورسز شروع کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

اس سے قبل ہائی کمشنر عمران حیدر نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام سے ملاقات کی، جس میں ڈھاکہ یونیورسٹی اور پاکستان کی مختلف جامعات کے درمیان تعلیمی روابط بڑھانے اور مشترکہ تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش میں طارق رحمان کی وزراتِ عظمیٰ: پاک بنگلہ دیش تعلقات میں تاریخی پیشرفت کے مواقع

وائس چانسلر نے پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے شعبہ اردو کی ترقی کے لیے فراہم کیے گئے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ 1921 میں قائم ہونے والا شعبہ اردو یونیورسٹی کے قدیم اور ممتاز شعبوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں اس وقت بی ایس (آنرز)، ماسٹرز، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر تعلیم دی جا رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کا تعاون مستقبل میں بھی جاری رہے گا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور تعلیمی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔

تقریب میں فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار، شعبہ اردو کے چیئرمین ایسوسی ایٹ پروفیسر محمد غلام مولا، پروفیسر ڈاکٹر محمد غلام ربانی، پاکستانی ہائی کمیشن کے ڈپٹی ہائی کمشنر محمد واصف سمیت اساتذہ، طلبہ اور دونوں ممالک کے حکام نے بھی شرکت کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاک بنگلہ دیش پاکستان پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار ڈھاکہ یونیورسٹی کمپیوٹر لیب

متعلقہ مضامین

  • گل پلازہ انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر نہ لانے کا فیصلہ، شفافیت اور تفتیشی عمل پر نئی بحث
  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • جیفری ایپسٹین کیس سے جڑے معروف نام ڈینیئل سیاد کی فرانس میں پراسرار موت
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف