پاکستان کا غزہ جنگ کے خاتمے کے امریکی منصوبے پر مسلم ممالک کے مشترکہ بیان کا خیر مقدم
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے غزہ کی جنگ کا خاتمہ کرنے کے بیان پر 8 مسلم ممالک کے مشترکہ بیان پر ترجمان دفتر خارجہ کا رد عمل بھی سامنے آگیا۔
بیان دینے والے 8 ممالک میں پاکستان، اردن، یواے ای، انڈونیشیا، ترکیے، سعودی عربیہ، مصر اور قطر شامل ہیں۔
ترجمان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزرائے خارجہ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت اور امن کی کوششوں کا خیرمقدم کیا، غزہ جنگ ختم کرنے اور فلسطینیوں کی بے دخلی روکنے کے امریکی اعلان کا خیرمقدم کیا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر کے 20 نکاتی امن منصوبے سے غزہ میں جنگ بندی ممکن ہوگی، وزیراعظم
وزرائے خارجہ نے امریکا کے ساتھ امن کے لیے شراکت داری پر زور دیا اور خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کے عزم کا اعادہ کیا۔
ترجمان کے مطابق دو ریاستی حل اور فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کی گئی، غزہ کی تعمیر نو اور اسرائیلی انخلا پر زور دیا گیا، وزرائے خارجہ نے معاہدے پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے تعاون کا اعلان کیا۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔