بنگلہ دیش 2027ء کا ایشیا کپ میزبان ہوگا، ایشین کرکٹ کونسل کی بھارتی رویے پر تنقید
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
دبئی میں ہونے والے ایشین کرکٹ کونسل کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ ایشیا کپ 2027ء کی میزبانی بنگلہ دیش کرے گا۔
اجلاس میں تمام رکن ممالک کے نمائندے شریک ہوئے، تاہم بھارت کا وفد موجود نہیں تھا۔ حالیہ ایشیا کپ کی کامیاب تکمیل اور ریکارڈ تعداد میں ناظرین کی شمولیت کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق بھارتی وفد کے رویے نے دیگر رکن ممالک کو مایوس کیا۔ بھارتی ٹیم کی جانب سے ٹاس کے وقت اور میچ کے بعد ہاتھ نہ ملانا اور اے سی سی کے صدر سید محسن رضا نقوی سے ٹرافی وصول نہ کرنا غیر مناسب قرار دیا گیا، جس پر نمائندوں نے سخت ناپسندیدگی ظاہر کی۔
اگرچہ بی سی سی آئی کے نائب صدر راجیو شکلا نے اجلاس میں آن لائن شرکت کی، لیکن بھارتی وفد کے عملی رویے پر شدید سوالات اٹھائے گئے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ ایشیا کپ 2027ء کی تیاریوں کا باضابطہ اعلان جلد ہی ایشین کرکٹ کونسل کرے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایشیا کپ
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔