بیوی اور بچوں کیلیے نان و نفقہ مقرر کرنے کے عدالتی فیصلے کیخلاف درخواست مسترد
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
اسلام آباد ہائی کورٹ نے بیوی اور دو بچوں کے لیے 75 ہزار روپے ماہانہ نان و نفقہ مقرر کرنے کے عدالتی فیصلے کے خلاف درخواست مسترد کر دی۔
گارڈین جج اسلام آباد نے اہلیہ کے لیے 15 ہزار اور دو بچوں کے لیے 30 ہزار روپے فی کس ماہانہ خرچہ دینے کا عبوری حکم دیا تھا۔ عمر اکبر علی گھمن نے عبوری حکم کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔
جسٹس محمد اعظم خان نے گارڈین جج کا عبوری حکم برقرار رکھتے ہوئے پٹیشنر کو نان و نفقہ کی ادائیگی کی ہدایت کر دی۔
درخواست گزار کا موقف تھا کہ اہلیہ نافرمان ہے، ازدواجی حقوق کی بحالی کے لیے بار بار درخواست کی۔ اہلیہ ازدواجی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے شوہر کا ساتھ نا دے تو کسی قسم کے نان و نفقہ کی حقدار نہیں۔
عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ شوہر نے پٹیشن میں اپنہ اہلیہ سے متعلق جس طرح کے الفاظ کا استعمال کیا وہ اس کی بدنیتی ظاہر کرتے ہیں۔ فیملی جج کے 6 مارچ 2025 کے آرڈر میں کوئی بے قاعدگی یا غیر قانونی بات نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔