ایف بی آر کو ستمبر میں 138 ارب روپے عبوری ریونیو شارٹ فال کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
اسلام آباد:
فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو رواں مالی سال 26-2025 کی پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) کے دوران 194 ارب روپے کم ٹیکس وصولیاں ہوئی ہیں اور ستمبر کے دوران 138 ارب روپے کے عبوری ریونیو شارٹ فال کا انکشاف ہوا ہے۔
ایف بی آر ذرائع کے مطابق ایف بی آر نے رات گئے تک ستمبر 2025 کے لیے مجموعی طور پر1230 ارب روپے کی عبوری ٹیکس وصولیاں کی ہیں جبکہ ستمبر کے لیے ٹیکس وصولیوں کا ہدف 1368ارب روپے تھا اوریوں ستمبرمیں 138 ارب روپے کے ریونیو شارٹ فال کا سامنا ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) 2025 میں مجموعی طور پر2886 ارب روپے کی عبوری ٹیکس وصولیاں ہوئی ہیں جو کہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے لیے مقرر کردہ 3080 ارب روپے کی ٹیکس وصولیوں کے ہدف کے مقابلے میں 194 ارب روپے کم ہیں۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ میں یہ ریونیو شارٹ فال 56 ارب روپے تھا جو ستمبر میں 138 ارب روپے اضافے کے ساتھ بڑھ کر 194ارب روپے ہوگیا ہے۔
ایف بی آر حکام کا کہنا تھا کہ اگلے چند دن میں ٹیکس وصولیوں کے حتمی اعداد و شمار موصول ہونے پر ریونیو شارٹ فال میں کچھ کمی متوقع ہے البتہ پھر بھی ریونیو شارٹ فال 150 ارب روپے سے زائد رہنے کا امکان ہے۔
حکام نے بتایا کہ اس وقت آئی ایم ایف کا جائزہ مشن پاکستان میں موجود ہے اور دوسرے اقتصادی جائزہ پر مذاکرات ہو رہے ہیں اور آئی ایم ایف پہلے ہی ریونیو کے بارے میں تحفظات کا اظہار کر چکا ہے۔
مزید بتایا گیا کہ ستمبر میں مزید ریونیو شارٹ فال سے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں پاکستان کی اقتصادی ٹیم کی مشکلات میں اضافے کا خدشہ ہے اور اس شارٹ فال کے بارے میں آئی ایم ایف ٹیم کو مطمئن کرنا ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ریونیو شارٹ فال رواں مالی سال آئی ایم ایف ایف بی آر ارب روپے
پڑھیں:
پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ
اسلام آباد: مٹی کے تیل کی قیمت میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ کر دیا گیا ہے، جبکہ پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل بھی مزید مہنگے ہو گئے ہیں۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور پیٹرولیم ڈویژن نے نئی قیمتوں کے نوٹیفکیشن جاری کر دیے ہیں، جن کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔
اوگرا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق مٹی کے تیل کی قیمت میں 7 روپے 80 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 297 روپے 17 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔ اس سے قبل مٹی کا تیل 289 روپے 37 پیسے فی لیٹر میں دستیاب تھا۔
حکام کے مطابق صرف تین روز کے دوران مٹی کے تیل کی قیمت میں مجموعی طور پر 14 روپے 58 پیسے فی لیٹر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث خصوصاً سرد علاقوں اور گھریلو صارفین پر مالی بوجھ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
دوسری جانب پیٹرولیم ڈویژن نے بھی پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمتوں کا اعلان کر دیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے 39 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 327 روپے 12 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل 7 روپے 83 پیسے فی لیٹر مہنگا ہونے کے بعد 375 روپے 04 پیسے فی لیٹر میں فروخت ہوگا۔
اعلامیے کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق 23 جولائی 2026 سے کر دیا گیا ہے۔ اس سے قبل بھی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تھا، جس کے بعد مسلسل بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں نے عوام، ٹرانسپورٹ سیکٹر، زرعی شعبے اور کاروباری سرگرمیوں پر اضافی مالی دباؤ بڑھا دیا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں استحکام نہ آیا تو آئندہ بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید ردوبدل کا امکان موجود ہے۔