اسلام آباد:

اسلام آباد ہائی کورٹ میں امریکی نژاد پاکستانی خاتون کے چار ماہ سے لاپتہ کم عمر بچوں کی بازیابی سے متعلق کیس میں راولپنڈی پولیس کو بچوں کی بازیابی کے لیے 16 اکتوبر تک مہلت دے دی۔

جسٹس محمد آصف نے سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پولیس کو پہلے بھی کافی وقت دیا جا چکا ہے، اب عدالت حکم جاری کرے گی۔

سماعت کے دوران بچوں کی والدہ آبدیدہ ہوگئیں اور عدالت کو بتایا کہ چار ماہ گزرنے کے باوجود نہ تو بچوں سے ملاقات ہوئی اور نہ ہی بچے بازیاب ہوئے۔

خاتون نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ پولیس کو متعدد بار آگاہ کر چکی ہیں کہ بچے واہ کینٹ میں موجود ہیں اور ان کے آنے جانے کی معلومات بھی دستیاب ہیں، تاہم پولیس تعاون نہیں کر رہی۔

پولیس افسر نے عدالت کو بتایا کہ بچوں کی بازیابی کیلئے بی-17 اور واہ کینٹ میں چھاپے مارے مگر بچے اور ان کے والد برآمد نہیں ہو سکے۔ پولیس افسر نے مزید کہا کہ اگر خاتون اپنے دیور اور سسر کے خلاف درخواست دیں تو بچوں کی جلد بازیابی ممکن ہو سکتی ہے۔

جسٹس محمد آصف نے وکیلِ درخواست گزار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ درخواست جمع کرا دیں، عدالت دو ہفتوں کی مہلت دے رہی ہے۔ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ بچوں کی بازیابی کی کوششیں جاری ہیں۔

عدالت نے واضح کیا کہ پہلے بھی وقت دیا جا چکا ہے، اب دو ہفتوں بعد حکم جاری کیا جائے گا۔ کیس کی مزید سماعت 16 اکتوبر تک ملتوی کردی گئی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بچوں کی بازیابی پولیس کو

پڑھیں:

نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا

سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔

سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔

اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • پاکستانی نژاد سعدیہ زاہدی عالمی ایئرلائنز تنظیم کی پہلی خاتون ڈائریکٹر جنرل مقرر
  • وفاقی آئینی عدالت، سہیل آفریدی کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
  • راولپنڈی میں ہوٹل سے سرکاری ادارے کے اہلکار کی پھندا لگی لاش برآمد
  • فلک جاوید اور صنم جاوید کےخلاف ٹویٹ کیس کی سماعت ملتوی
  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار