گھٹنے محفوظ تو آپ مضبوط، جانیے ان کی بروقت حفاظت کے طریقے
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
ہم روزمرہ کی زندگی میں چلتے پھرتے، بیٹھتے اٹھتے جوڑوں پر خاص طور پر گھٹنوں پر انحصار کرتے ہیں مگر عام طور پر ان کا خیال کم ہی رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کان کے راستے گھٹنوں کے درد کا نیا اور محفوظ علاج دریافت
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ پہلے سے کچھ سادہ اقدامات اختیار کر کے گھٹنوں کو عمر بھر کے لیے مضبوط رکھا جا سکتا ہے۔
اکثر افراد 30 کی دہائی میں ہی گھٹنوں میں درد، سوجن یا سختی محسوس کرنے لگتے ہیں خصوصاً موسم کی تبدیلی پر یا صبح اٹھتے وقت۔ یہ علامات عمر کے ساتھ عام ہیں خاص طور پر اگر آپ جسمانی کام کرتے ہیں، کھیل کود میں متحرک ہیں یا وزن زیادہ ہے۔
مزید پڑھیے: آپٹیشن کے سوال ’وہ ٹھیک تھا یا یہ ٹھیک ہے‘ سےبھی چھٹکارا لیکن کیا یہ آٹوفوکس چشمے کارگر ہیں؟
ماہرین کے مطابق صرف چلنے سے گھٹنوں پر جسم کے وزن کا ڈیڑھ گنا دباؤ پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کمر درد کے بعد گھٹنے کا درد دنیا بھر میں دوسرا سب سے عام عضلاتی مسئلہ ہے جو نقل و حرکت سے لے کر زندگی کے معیار تک کو متاثر کرتا ہے
کون سی ورزشیں مددگار ہیں؟امریکا کے مَیو کلینک کے ماہر آرتھوپیڈک سرجن ڈاکٹر انیکار چھبرا کہتے ہیں کہ گھٹنے 4 اہم پٹھوں کے گروپ یعنی ہیم اسٹرنگ، کولہے کے عضلات، کوادری سیپس (ران کے آگے کے عضلات) اور پنڈلی کے عضلات پر انحصار کرتے ہیں جو ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان عضلات کو مضبوط بنانا گھٹنوں کی کارکردگی اور پائیداری کے لیے ضروری ہے۔
مزید پڑھیں: اے آئی چشمے نابینا افراد کی آنکھیں بن گئے، جانیے استفادہ کرنے والے کیا کہتے ہیں؟
ماہرین درج ذیل سادہ گھریلو ورزشیں تجویز کرتے ہیں جو ہفتے میں 3 سے 4 بار کی جا سکتی ہیں۔
اسٹیپ اپساسٹیپ اپس کسی سیڑھی یا چھوٹے اسٹول پر چڑھنا، ایک پاؤں سے اور پھر دوسرا اور واپس نیچے آنا ہے۔
یہ ورزش کواڈری سیپس کو مضبوط کرتی ہے۔
اسکواٹسروز صبح و شام 15 بار اسکواٹس کرنے سے رانوں اور کولہوں کے عضلات متحرک ہوتے ہیں جو گھٹنوں سے دباؤ کم کرتے ہیں۔
ٹانگ کی ورزشفرش پر لیٹ کر ایک ٹانگ کو سیدھا رکھتے ہوئے کچھ انچ اوپر اٹھانا اور چند سیکنڈ تک روکنا بھی گھٹنوں کے عضلات کو متحرک کرتا ہے۔
پنڈلی کی ورزشایڑیوں پر اُٹھنا اور واپس آنا جس سے پنڈلی کے عضلات مضبوط ہوتے ہیں اور گھٹنے کا توازن بہتر ہوتا ہے۔
کرسی سے اٹھنا بیٹھنابغیر ہاتھوں کے سہارا لیے بار بار بیٹھنا اور کھڑا ہونا جس سے نہ صرف ٹانگیں بلکہ کور پٹھے بھی مضبوط ہوتے ہیں۔
ورزش کے فوائد اور احتیاطیںورزش صرف پٹھوں کو ہی نہیں بلکہ جوڑوں کے اندرونی نظام کو بھی بہتر کرتی ہے۔
ایک خاص رطوبت، جسے سنوویئل فلوئڈ کہتے ہیں، ورزش کے ذریعے پیدا ہوتی ہے جو جوڑوں کو چکنا اور سوجن سے محفوظ رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: کیا ٹوائلٹ سیٹ سے جنسی و دیگر بیماریاں لگ سکتی ہیں؟
ماونٹ سائنا اسکول آف میڈیسن کے ڈاکٹر الیکسس کولون کا کہنا ہے کہ یہ مشقیں خصوصاً عمر رسیدہ افراد کو ہڈیوں کی مضبوطی، اوسٹیوپوروسس سے بچاؤ اور توازن بہتر بنانے میں بھی مدد دیتی ہیں۔
ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ اگر آپ نئی ورزشیں شروع کر رہے ہیں تو کسی فزیو تھراپسٹ یا ٹرینر سے ابتدائی رہنمائی ضرور لیں۔
مشق کے دوران عضلات کی ہلکی تکلیف معمول ہے لیکن اگر گھٹنے میں شدید یا بڑھتا ہوا درد ہو تو فوراً کسی ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
ماہرین کا متفقہ مشورہ ہے جتنی جلدی شروع کریں گے اتنا ہی بہتر ہوگا۔ خواہ آپ نوجوان ہوں یا ادھیڑ عمر گھٹنوں کی حفاظت میں ’سرمایہ کاری‘ آپ کی متحرک اور خود مختار زندگی کی ضمانت بن سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: مخصوص ایام میں خواتین ایتھلیٹس کو درپیش چیلنجز: کھیل کے میدان میں ایک پوشیدہ آزمائش
جیسا کہ آسٹریلوی فلم ڈائریکٹر باز لُرمن کے ریلیز کردہ ایک مشہور گانے میں کہا گیا ہے کہ ’اپنے گھٹنوں سے نرمی برتیں، جب وہ ساتھ چھوڑیں گے تو آپ کو ان کی کمی شدت سے محسوس ہو گی‘۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
گھٹنوں کا درد گھٹنوں کی حفاظت گھٹنے مضبوط کریں.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: گھٹنوں کا درد گھٹنوں کی حفاظت گھٹنے مضبوط کریں کرتے ہیں کے عضلات
پڑھیں:
اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔