ایتھلیٹکس فیڈریشن کے انتخابات میں بے ضابطگیوں کا نوٹس
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد(اسپورٹس ڈیسک)پاکستان ایتھلیٹکس فیڈریشن کے انتخابات میں بے ضابطگیوں کے معاملے کاپاکستان سپورٹس بورڈ نوٹس لیتے ہوئے ایتھلیٹکس فیڈریشن کے عہدداران تین اکتوبر کو طلب کرلیا ہے۔سینیٹر پرویز رشید کی سربراہی میں ایڈجوڈی کیٹر شکایت پر سماعت کرے گا۔ تفصیلات کے مطابق نیشنل ایسوسی ایشن آف ایتھلیٹکس ٹیکنیکل آفیشلز نے شکایت دارکی کہ ایتھلیٹکس فیڈریشن کی جنرل کونسل میٹنگ میں آئینی خلاف ورزیاں اور بے ضابطگیاں ہوئی ہے جس کی تحقیقات کی جائے جس پر پاکستان اسپورٹس بورڈ نے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے ایتھلیٹکس فیڈریشن آف پاکستان کے خلاف معاملے کو پاکستان کوڈ آف ایتھکس اینڈ گورننس اِن اسپورٹس 2024 کے تحت سینیٹر پرویز رشید کی سربراہی میں ایڈجوڈی کیٹر کو بھجوایا جنہوں نے تین اکتوبر کو ایتھلیٹکس فیڈریشن کے عہدداران کوتحریری جواب اور دستاویزات کے ساتھ پیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔نوٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ جواب داخل نہ کرنے یا پیش نہ ہونے کی صورت میں ریکارڈ کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔