ایتھلیٹکس فیڈریشن کے انتخابات میں بے ضابطگیوں کا نوٹس
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد(اسپورٹس ڈیسک)پاکستان ایتھلیٹکس فیڈریشن کے انتخابات میں بے ضابطگیوں کے معاملے کاپاکستان سپورٹس بورڈ نوٹس لیتے ہوئے ایتھلیٹکس فیڈریشن کے عہدداران تین اکتوبر کو طلب کرلیا ہے۔سینیٹر پرویز رشید کی سربراہی میں ایڈجوڈی کیٹر شکایت پر سماعت کرے گا۔ تفصیلات کے مطابق نیشنل ایسوسی ایشن آف ایتھلیٹکس ٹیکنیکل آفیشلز نے شکایت دارکی کہ ایتھلیٹکس فیڈریشن کی جنرل کونسل میٹنگ میں آئینی خلاف ورزیاں اور بے ضابطگیاں ہوئی ہے جس کی تحقیقات کی جائے جس پر پاکستان اسپورٹس بورڈ نے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے ایتھلیٹکس فیڈریشن آف پاکستان کے خلاف معاملے کو پاکستان کوڈ آف ایتھکس اینڈ گورننس اِن اسپورٹس 2024 کے تحت سینیٹر پرویز رشید کی سربراہی میں ایڈجوڈی کیٹر کو بھجوایا جنہوں نے تین اکتوبر کو ایتھلیٹکس فیڈریشن کے عہدداران کوتحریری جواب اور دستاویزات کے ساتھ پیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔نوٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ جواب داخل نہ کرنے یا پیش نہ ہونے کی صورت میں ریکارڈ کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔