افغانستان میں دو دن کے مکمل بلیک آؤٹ کے بعد موبائل فون سروس اور انٹرنیٹ بحال
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
کابل: افغانستان میں دو دن کے مکمل بلیک آؤٹ کے بعد بدھ کی شام ملک بھر میں موبائل فون سروس اور انٹرنیٹ بحال کر دیے گئے۔
طالبان حکومت نے بغیر کسی پیشگی اعلان کے پیر کی شب پورے ملک میں ٹیلی کمیونی کیشن بند کر دی تھی، جس سے کاروبار، تعلیمی سرگرمیاں اور عوامی رابطے منجمد ہو گئے تھے۔
رپورٹس کے مطابق سگنلز اور وائی فائی کابل سمیت قندھار، خوست، غزنی اور ہرات میں دوبارہ بحال ہو گئے ہیں۔
انٹرنیٹ کی واپسی پر عوام بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے، گاڑیوں کے ہارن بجائے، مٹھائیاں اور غبارے خریدے اور خوشی کا اظہار کیا۔
مقامی شہریوں کا کہنا تھا کہ "شہر دوبارہ زندہ ہوگیا ہے"۔
یہ پہلا موقع ہے کہ طالبان حکومت نے 2021 کے بعد پورے ملک میں ٹیلی کمیونی کیشن معطل کی۔ انٹرنیٹ مانیٹرنگ ادارے نیٹ بلاکس نے بتایا کہ بلیک آؤٹ "جان بوجھ کر کنکشن منقطع کرنے" کا نتیجہ تھا۔
اقوام متحدہ نے اس بندش کو افغانستان کو دنیا سے کاٹنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے فوری بحالی کا مطالبہ کیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں طالبان حکام نے خواتین اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن کے دفتر پر چھاپہ مار کر تنظیم کے 6 ملازمین کو حراست میں لے لیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، کارروائی کے دوران طالبان اہلکاروں نے تنظیم کے کمپیوٹرز، دستاویزات اور دیگر دفتری سامان بھی قبضے میں لے لیا۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان: طالبان حکومت کا ایک اور متنازع فیصلہ، خواتین کو صحت کی تعلیم سے روکنے کا حکم
تاہم اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ گرفتار کیے گئے ملازمین کو کہاں منتقل کیا گیا ہے اور ان کی موجودہ حالت کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں 2 افراد تنظیم کی سربراہ زرقا یفتلی کے قریبی رشتہ دار ہیں، جو اس وقت افغانستان سے باہر مقیم ہیں۔
Sources in Kabul told Afghanistan International on Wednesday that Taliban agents raided the office of the Women and Children Legal Research Foundation (WCLRF) earlier this week and detained six staff members.https://t.co/ly2WtJb202 pic.twitter.com/fQ8qbUdHiN
— Afghanistan International English (@AFIntl_En) July 23, 2026
زرقا یفتلی خواتین کے حقوق کی معروف کارکن ہیں اور گزشتہ سال انہیں متحدہ عرب امارات کی جانب سے 2026 زاید ایوارڈ فار ہیومن فریٹرنٹی سے نوازا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق زیرِ حراست افراد کے اہلِ خانہ نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے عزیزوں کی حراست کی جگہ، قانونی حیثیت اور صحت کے بارے میں فوری طور پر آگاہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں: کرکٹ اسٹارز سے ملاقاتوں اور لباس کے معاملے پر طالبان رہنماؤں میں اختلافات بڑھ گئے
ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن تعلیم، خواتین اور بچوں کے حقوق کی وکالت، تحقیقی سرگرمیوں اور تحقیقاتی رپورٹس کی تیاری کے شعبوں میں کام کرتی رہی ہے۔
طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں سول سوسائٹی کی متعدد تنظیموں، خصوصاً خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں، پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
اس عرصے کے دوران کئی سماجی کارکنوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ متعدد تنظیمیں اپنی سرگرمیاں محدود کرنے یا مکمل طور پر بند کرنے پر مجبور ہو چکی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغانستان سول سوسائٹی طالبان فلاحی تنظیم کابل کمپیوٹرز متحدہ عرب امارات ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن