کراچی:

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سپورٹ پرائس اور خریداری نہ کرنے کے باعث گندم کی پیداوار کم ہو گئی ہے۔

آبادگاروں کے لیے گندم سپورٹ پروگرام سے متعلق اہم اجلاس وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں وزیر زراعت محمد بخش مہر، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، سیکریٹری ٹو سی ایم عبدالرحیم شیخ، سیکریٹری زراعت ضامن ناریجو، اسپیشل سیکریٹری خزانہ اصغر میمن اور دیگر حکام شریک ہوئے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے اجلاس میں کہا کہ گزشتہ سال گندم کی خریداری نہ ہونے اور مناسب سپورٹ پرائس نہ ملنے کے باعث گندم کی پیداوار میں نمایاں کمی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوڈ سکیورٹی کو یقینی بنانے اور کاشتکاروں کی مدد کے لیے سندھ حکومت نے 55.

8 ارب روپے کا خصوصی پیکیج تیار کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ صوبے میں 25 ایکڑ تک اراضی رکھنے والے 4 لاکھ 11 ہزار 408 کاشتکاروں کو ایک ڈی اے پی اور دو یوریا بیگ فراہم کیے جائیں گے۔ سندھ حکومت مجموعی طور پر 22 لاکھ 62 ہزار 746 ڈی اے پی اور 45 لاکھ 25 ہزار 492 یوریا بیگز تقسیم کرے گی۔

اجلاس میں وزیر زراعت نے وزیراعلیٰ کو بتایا کہ پروکیورمنٹ کمیٹی اور ڈائریکٹر جنرل زراعت کی سربراہی میں سروے ٹیمیں نوٹیفائی ہوچکی ہیں جب کہ اہل کاشتکاروں کی تصدیق کے لیے خصوصی سیل بھی قائم کیا گیا ہے۔ گندم کے سروے اور تصدیق کے بعد کھاد کی تقسیم کا عمل شروع کیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ نے ہدایت دی کہ نومبر کے دوسرے ہفتے سے ڈی اے پی اور یوریا کی تقسیم کا آغاز کیا جائے تاکہ بروقت کاشت ممکن ہو سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کا ہدف گندم کی بمپر فصل حاصل کرنا ہے، اس لیے آبادگاروں کو بہتر سپورٹ پرائس دی جائے گی تاکہ ان کی محنت کا پورا معاوضہ مل سکے۔

Tagsپاکستان

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان سپورٹ پرائس گندم کی

پڑھیں:

دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن(Establishment Division) نے دفتری نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ ماحول کو بہتر بنانے کے لیے نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات، بائیومیٹرک حاضری اور لباس کے ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔

جاری کردہ سرکلر کے مطابق تمام ملازمین کے لیے صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے سرکاری اوقاتِ کار پر مکمل عمل درآمد لازمی ہوگا، جبکہ مقررہ وقت پر دفاتر میں حاضری یقینی بنانے کے لیے بائیومیٹرک حاضری کے نظام پر سختی سے عمل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

سرکلر میں سرکاری ملازمین کے لیے ڈریس کوڈ بھی واضح کیا گیا ہے۔ ہدایات کے مطابق افسران اور اہلکار یا تو لاؤنج سوٹ پہنیں یا پھر شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ زیب تن کریں تاکہ دفاتر میں پیشہ ورانہ اور باوقار ماحول برقرار رکھا جا سکے۔

مزیدپڑھیں:آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے راہداریوں میں شور شرابے اور بلند آواز میں گفتگو سے بھی گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، تاکہ سرکاری امور کی انجام دہی کے دوران پرسکون اور منظم ماحول برقرار رہے۔

سرکلر میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تمام ہدایات فوری طور پر نافذ العمل ہیں اور متعلقہ افسران کو ان پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن