چین کا مستقبل تابناک ہے، پورا مشرق ساتھ مل کر کام کرے گا، صدر زرداری
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ چین کا مستقبل تابناک ہے، پورا مشرق ساتھ مل کر کام کرے گا۔
چین کے سرکاری ٹی وی سی جی ٹی این کے پروگرام ’’ورلڈ ٹوڈے‘‘ کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ چین کے عوام کی بے پناہ محبت انہیں بار بار یہاں لے آتی ہے۔ دورہ چین کے دوران جس شہر میں بھی گیا، عوام کی محبت اور اپنائیت نے دل جیت لیا۔
صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ انسان کے دل کو فتح کرنے کے لیے محبت سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اب تک 16 سے 17 بار چین کا دورہ کرچکے ہیں اور ہر بار انہیں وہی اپنائیت اور خلوص محسوس ہوا۔ صدر مملکت نے کہا کہ چین آج 14 سال پہلے کے مقابلے میں بالکل بدل چکا ہے اور اس کی ترقی دیکھ کر خوشی ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کی دوستی کئی دہائیوں پر محیط ہے، دونوں ممالک کے تعلقات انتہائی گہرے ہیں اور ہم ہر حال میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہیں۔ صدر زرداری نے کہا کہ گوادر بندرگاہ دونوں ممالک کو جوڑنے والی اہم کڑی ہے۔ اسی طرح سی پیک کی ترقی سے پورا خطہ مستفید ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ چین کی معیشت مضبوط ہے، عوام خوشحال اور مطمئن ہیں، اسی لیے چین کا مستقبل تابناک نظر آتا ہے۔ پورا مشرق چین کے ساتھ مل کر کام کرے گا کیونکہ اب دنیا کو جنگوں نہیں بلکہ معاشی امن اور ترقی کے بارے میں سوچنا چاہیے۔
صدر آصف علی زرداری نے زور دیا کہ سب ممالک کو ایک دوسرے کی خودمختاری کا احترام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ترقی کا حق سب کو حاصل ہے اور پاکستان و چین کا تعاون اب خلا تک پہنچ چکا ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ زرعی شعبے میں خود کفالت حاصل کرنی ہوگی تاکہ مستقبل محفوظ بنایا جا سکے اور اس مقصد کے لیے پانی کے موثر استعمال اور جدید آبپاشی نظام اپنانا ضروری ہے۔
صدر زرداری نے مزید کہا کہ پاکستان اور چین آہنی بھائی ہیں، جن کا مستقبل ایک دوسرے کے ساتھ جڑا ہوا ہے، اور ہمیں آئندہ نسلوں کو یہ باور کرانا ہے کہ اپنے وسائل کے درست استعمال سے خود انحصاری حاصل کی جا سکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: آصف علی زرداری نے کا مستقبل نے کہا کہ کہ چین چین کا چین کے
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔