طاقت کا مرکز عوام نہیں جرنیل ہیں
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاک فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر نے 1973ء کا آئین بنانے والوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ طاقت کا محور عوام ہیں۔ آئین کہتا ہے کہ اختیار عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے استعمال ہوگا۔ منتخب نمائندے منزل کا تعین کریں، پاک فوج پاکستان کی ترقی اور کامیابی کے سفر میں ان کا بھرپور ساتھ دے گی۔ قومی سلامتی کمیٹی کے ان کیمرہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جنرل عاصم منیر نے کہا کہ حاکمیت اعلیٰ اللہ تعالیٰ کی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس حکم سے ہی آئین کو اختیار ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین پاکستان اور پارلیمنٹ عوامی رائے کے مظہر ہیں۔ عوام اپنی رائے آئین اور پارلیمنٹ کے ذریعے استعمال کرتے ہیں۔
(روزنامہ جنگ کراچی، 15 اپریل 2023ء)
پاکستان کے جرنیل سیاست دانوں کو پسند نہیں کرتے مگر جب موقع ملتا ہے وہ سیاست دانوں کی طرح گفتگو کرتے ہیں۔ جنرل عاصم منیر نے بھی قومی سلامتی کونسل کے ان کیمرہ اجلاس میں ایک سیاست دان کی طرح گفتگو کی ہے۔ اس گفتگو کا ٹھوس تاریخی حقائق سے کوئی تعلق نہیں۔ جنرل عاصم منیر نے فرمایا ہے کہ پاکستان میں طاقت کا مرکز یا محور عوام ہیں۔ لیکن تلخ اور ناقابل تردید حقیقت یہ ہے کہ وطن عزیز میں طاقت کا سرچشمہ عوام نہیں جرنیل ہیں۔ چند سال پہلے شائع ہونے والے امریکا کے خفیہ پیپرز کے مطابق جنرل ایوب 1954ء سے امریکیوں کے ساتھ خط و کتابت کررہے تھے، وہ امریکیوں کو بتا رہے تھے کہ پاکستان کے سیاستدان نااہل ہیں اور وہ پاکستان کو تباہ کردیں گے۔ جنرل ایوب امریکیوں سے کہہ رہے تھے کہ فوج سیاست دانوں کو ملک تباہ نہیں کرنے دے گی۔ 1954ء میں ملک کی سیاست عدم استحکام کا شکار تھی مگر اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ جنرل ایوب امریکیوں سے خفیہ روابط استوار کرکے اپنے مارشل لا کی راہ ہموار کریں۔ پاکستان عوامی جدوجہد کا حاصل تھا۔ تحریک پاکستان میں جرنیلوں یا فوج کا کوئی کردار نہیں تھا اس لیے کہ اس وقت نہ جرنیل موجود تھے، نہ فوج موجود تھی۔ چناں چہ جنرل ایوب کا قومی سیاست میں کوئی کردار ہی نہیں تھا۔ بالفرض انہیں مارشل لا لگانا بھی تھا تو اس کے لیے امریکا کے آگے سجدہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ جنرل ایوب مارشل لا لگا کر بالغ حق رائے دہی
کی بنیاد پر انتخابات کراتے اور اقتدار فوری طور پر عوام کے منتخب نمائندوں اور پارلیمنٹ کے حوالے کرکے خود بیرکوں میں واپس چلے جاتے مگر جنرل ایوب نے ایسا نہیں کیا۔ انہوں نے عوام کی تائید کے بجائے امریکا کی سرپرستی میں مارشل لا لگایا اور عوام کو اقتدار و اختیار کے کھیل سے 10 سال کے لیے باہر کردیا۔ اس سے ثابت ہوا کہ پاکستان میں بالادستی عوام کی نہیں ہے جرنیلوں کی ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ اہمیت عوام کی خواہش کی نہیں جرنیلوں کے ڈنڈے کی ہے۔ جرنیل عوام کو طاقت کا محور خیال کرتے تو جنرل ایوب ملک میں ایک آدمی ایک ووٹ کا جمہوری اصول متعارف کراتے اور عوام کی اکثریت کی رائے سے صدر منتخب ہوتے۔ مگر جنرل ایوب نے ایسا نہیں کیا۔ انہوں نے ملک میں بی ڈی سسٹم متعارف کرادیا جس کے تحت پورے ملک سے 80 ہزار افراد قوم کے نمائندے منتخب ہوئے اور پورے 80 ہزار بی ڈی ممبرز نے جنرل ایوب کو ملک کا صدر منتخب کردیا۔ جنرل ایوب کے زمانے میں قائداعظم کی بہن اور مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح عوام میں مقبول تھیں۔ وہ حقیقی معنوں میں عوام کو طاقت کا محور بنا سکتی تھیں۔ مگر جنرل ایوب نے ان کی عوامی ساکھ کو برباد کرنے کے لیے ملک کے بڑے بڑے اخبارات میں نصف صفحے کے ایسے اشتہارات شائع کرائے جن میں فاطمہ جناح کو بھارتی ایجنٹ قرار دیا گیا تھا۔ ایک نوکر پیشہ حقیر جرنیل تو پاکستان کا مائی باپ بنا ہوا تھا اور ملک بنانے والے قائد اعظم کی بہن بھارتی ایجنٹ قرار دی جارہی تھیں۔ اس مثال سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان میں ابتدائی زمانے ہی سے طاقت کا محور عوام نہیں جرنیل اور ان کا ڈنڈا ہے۔ پاکستان میں عوام طاقت کا سرچشمہ ہوتے تو جنرل ایوب دس سال کی فوجی آمریت کے بعد عوام میں بڑے مقبول ہوتے مگر ایسا نہیں تھا۔ جنرل ایوب دس سال کے بعد بھی عوام میں مقبول نہیں تھے اس کے برعکس اس کے خلاف جو عوامی مظاہرے ہورہے تھے ان میں ایوب کتا ہائے ہائے کے نعرے لگ رہے تھے۔ لیکن چوں کہ پاکستان میں عوام طاقت کا سرچشمہ نہیں تھے اس لیے جنرل ایوب عوامی طاقت سے برطرف نہیں ہوئے بلکہ جنرل یحییٰ کی قیادت میں سینئر فوجی اہلکاروں نے ان کے خلاف بغاوت کی۔ اس بغاوت سے بھی ثابت ہوا کہ طاقت کا سرچشمہ جرنیل ہیں اور ایک جرنیل کو دوسرا جرنیل ہی کاٹ سکتا ہے۔ جنرل ایوب کے عہد کی ایک بہت اہم بات یہ تھی کہ انہوں نے ملک میں ون یونٹ متعارف کرایا تھا اس کا مقصد مشرقی پاکستان کی اکثریت کو زیر و زبر کرنا اور بنگالیوں کو مغربی پاکستان کا غلام بنانا تھا۔ پاکستان میں عوام طاقت کا مرکز محور یا سرچشمہ ہوتے تو ملک میں کبھی بھی ون یونٹ کا تجربہ نہیں ہوسکتا تھا۔
جنرل یحییٰ اقتدار میں آئے تو انہوں نے 1970ء میں ایک آدمی ایک ووٹ کے اصول پر انتخابات کرانے کا اعلان کیا۔ ان انتخابات میں شیخ مجیب الرحمن کی عوامی لیگ نے اکثریت حاصل کرلی۔ مگر جنرل یحییٰ نے اقتدار شیخ مجیب الرحمن اور ان کی جماعت کے حوالے کرنے کے بجائے مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن شروع کردیا۔ یہ آپریشن پاکستان دشمن اقدام تھا اور اس آپریشن نے دیکھتے ہی دیکھتے مشرقی پاکستان کو بنگلادیش میں تبدیل کردیا۔ اس صورت حال سے ایک بار پھر ثابت ہوا کہ پاکستان میں طاقت کا مرکز عوام نہیں جرنیل ہیں۔ حمودالرحمن کمیشن نے جنرل یحییٰ اور کئی دیگر جرنیلوں کے کورٹ مارشل کی سفارش کی۔ عوامی مطالبہ بھی یہی تھا مگر جنرل یحییٰ ٹھاٹ سے جیے اور پورے فوجی اعزاز کے ساتھ دفن کیے گئے۔ عام آدمی دس ہزار روپے کی چوری بھی کرلیتا ہے تو اس کی زندگی عذاب بن جاتی ہے مگر جنرل یحییٰ اور ان کے رفقا نے ملک توڑ دیا لیکن ان کا احتساب نہ ہوسکا۔ اس منظرنامے سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان میں طاقت کا سرچشمہ عوام نہیں جرنیل ہیں۔
ذوالفقار علی بھٹو نے ملک کو پہلا متفقہ اسلامی آئین دیا۔ انہوں نے ملک کے جوہری پروگرام کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے عوام میں یہ جذبہ پیدا کیا کہ ہم گھاس کھائیں گے مگر ایٹم بم بنائیں گے۔ انہوں نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا۔ انہوں نے پاکستان میں اسلامی ممالک کے سربراہوں کی کانفرنس منعقد کرائی۔ انہوں نے شراب کو ممنوع قرار دیا۔ انہوں نے جمعے کی تعطیل کا اعلان کیا۔ بھٹو صاحب ملک میں عوامی قوت کا مظہر تھے مگر جنرل ضیا الحق نے نہ صرف یہ کہ بھٹو کو برطرف کرکے ملک پر مارشل لا مسلط کردیا بلکہ انہوں نے بھٹو کے عدالتی قتل کی راہ بھی ہموار کی۔ اس سے ایک بار پھر ثابت ہوا کہ پاکستان میں اہم عوام نہیں جرنیل ہیں۔ جنرل ضیا الحق نے اقتدار میں آنے کے بعد 90 دن میں انتخابات کرانے کا اعلان کیا مگر وہ 90 مہینے میں بھی انتخابات نہ کراسکے۔ انہوں نے انتخابات کرائے بھی تو غیر جماعتی بنیادوں پر حالاں کہ جمہوریت میں عوام کی قوت کا مظہر سیاسی جماعتیں ہوتی ہیں۔ پاکستان میں عوام طاقت کا محور ہوتے تو جنرل ضیا الحق کبھی غیر جماعتی انتخابات کی راہ ہموار نہ کرتے۔ پیپلز پارٹی نے ایم آر ڈی کی پلیٹ فارم سے جنرل ضیا الحق کے خلاف تحریک چلائی مگر جنرل ضیا الحق نے طاقت کے زور سے ایم آر ڈی کی تحریک کو کچل دیا اور ثابت کیا کہ پاکستان میں طاقت کا سرچشمہ عوام نہیں جرنیل ہیں۔ جنرل ضیا الحق دس سال تک ملک کے سیاہ و سفید کے مالک رہے اور بالآخر امریکا نے ان کے طیارے کو دھماکے سے اڑا دیا۔ اہم بات یہ ہے کہ ان کے طیارے تک صرف ملک کے خفیہ اداروں کے اہلکاروں کی رسائی تھی۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ جنرل ضیا الحق کو فوج ہی کے عناصر نے راستے سے ہٹایا۔ اس سے بھی یہی ثابت ہوا کہ طاقت ور عوام نہیں فوج ہے۔ جنرل ضیا الحق خود تو چلے گئے مگر آئین میں جنرل ضیا الحق کی شامل کی گئی شق 58(2)B ان کے بعد بھی آئین میں موجود رہی اور اس کے تحت بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کی دو دو حکومتیں برطرف کی گئیں۔ اس مثال سے بھی جرنیلوں ہی کی طاقت ابھر کر ہمارے سامنے آتی ہے۔
جنرل پرویز مشرف نے جس وقت میاں نواز شریف کو اقتدار سے ہٹایا اس وقت میاں نواز شریف کو قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت حاصل تھی۔ پاکستان میں عوام طاقت کا سرچشمہ اور پارلیمنٹ بالادست ہوتی تو جنرل پرویز کو کبھی اقتدار پر قبضے کی جرأت نہ ہوتی۔ جنرل پرویز مشرف نے نائن الیون کے بعد ایک ٹیلی فون کال پر پورا پاکستان امریکا کے حوالے کیا تو عوام اس کے سخت خلاف تھے
چناں چہ ملک میں خانہ جنگی شروع ہوگئی مگر جنرل پرویز کے کان پر جوں تک رینگ کر نہ دی۔ اس صورت حال سے ایک بار پھر یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ پاکستان میں اصل طاقت جرنیل کے پاس ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ جنرل پرویز کے خلاف جو وکلا تحریک شروع ہوئی وہ کبھی کامیاب نہ ہوئی اگر اس کی پشت پر جنرل کیانی موجود نہ ہوتے۔ ہماری ایک بار آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل حمید گل سے ملاقات ہوئی تو ہم نے ان سے پوچھا کہ فوج پاکستان کے لیے ہے یا پاکستان فوج کے لیے۔؟ کہنے لگے تمہارے سوال کا میرے پاس کوئی جواب نہیں۔ انہوں نے ایسا اس لیے کہا کہ وہ اگر یہ کہتے کہ فوج ملک کے لیے ہے تو وہ سفید جھوٹ بولتے اور اگر وہ یہ تسلیم کرتے کہ ملک فوج کے لیے ہے تو وہ ایک بڑے جرم کا اعتراف کرتے۔ دنیا میں ملک ہیں اور ان کے پاس فوجیں ہیں مگر ہمارے یہاں ایک فوج ہے جس کے پاس ایک ملک ہے۔ یہی اصل حقیقت ہے۔ باقی جو کچھ ہے پروپیگنڈا ہے۔ عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش ہے۔ تاریخ کو مسخ کرنے کا عمل ہے۔ حقائق کو جھٹلانے کی روایت ہے۔ بلاشبہ آئین میں یہی کہا گیا ہے کہ حاکمیت اللہ تعالیٰ کی ہے، مگر اسلامی جمہوری پاکستان کے کسی ایک شعبے میں بھی اسلام غالب نہیں ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پاکستان میں عوام طاقت کا کہ پاکستان میں طاقت کا عوام نہیں جرنیل ہیں طاقت کا سرچشمہ جنرل ضیا الحق اور پارلیمنٹ طاقت کا مرکز طاقت کا محور ثابت ہوا کہ جنرل پرویز پاکستان کے جنرل یحیی جنرل ایوب انہوں نے عوام میں نہیں تھا مارشل لا عوام کی کہ جنرل رہے تھے تو جنرل بھی یہی ملک میں کے خلاف ایک بار فوجی ا کے بعد کے لیے ملک کے نے ملک اور ان سے بھی
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔