طاقت کا مرکز عوام نہیں جرنیل ہیں
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاک فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر نے 1973ء کا آئین بنانے والوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ طاقت کا محور عوام ہیں۔ آئین کہتا ہے کہ اختیار عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے استعمال ہوگا۔ منتخب نمائندے منزل کا تعین کریں، پاک فوج پاکستان کی ترقی اور کامیابی کے سفر میں ان کا بھرپور ساتھ دے گی۔ قومی سلامتی کمیٹی کے ان کیمرہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جنرل عاصم منیر نے کہا کہ حاکمیت اعلیٰ اللہ تعالیٰ کی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس حکم سے ہی آئین کو اختیار ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین پاکستان اور پارلیمنٹ عوامی رائے کے مظہر ہیں۔ عوام اپنی رائے آئین اور پارلیمنٹ کے ذریعے استعمال کرتے ہیں۔
(روزنامہ جنگ کراچی، 15 اپریل 2023ء)
پاکستان کے جرنیل سیاست دانوں کو پسند نہیں کرتے مگر جب موقع ملتا ہے وہ سیاست دانوں کی طرح گفتگو کرتے ہیں۔ جنرل عاصم منیر نے بھی قومی سلامتی کونسل کے ان کیمرہ اجلاس میں ایک سیاست دان کی طرح گفتگو کی ہے۔ اس گفتگو کا ٹھوس تاریخی حقائق سے کوئی تعلق نہیں۔ جنرل عاصم منیر نے فرمایا ہے کہ پاکستان میں طاقت کا مرکز یا محور عوام ہیں۔ لیکن تلخ اور ناقابل تردید حقیقت یہ ہے کہ وطن عزیز میں طاقت کا سرچشمہ عوام نہیں جرنیل ہیں۔ چند سال پہلے شائع ہونے والے امریکا کے خفیہ پیپرز کے مطابق جنرل ایوب 1954ء سے امریکیوں کے ساتھ خط و کتابت کررہے تھے، وہ امریکیوں کو بتا رہے تھے کہ پاکستان کے سیاستدان نااہل ہیں اور وہ پاکستان کو تباہ کردیں گے۔ جنرل ایوب امریکیوں سے کہہ رہے تھے کہ فوج سیاست دانوں کو ملک تباہ نہیں کرنے دے گی۔ 1954ء میں ملک کی سیاست عدم استحکام کا شکار تھی مگر اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ جنرل ایوب امریکیوں سے خفیہ روابط استوار کرکے اپنے مارشل لا کی راہ ہموار کریں۔ پاکستان عوامی جدوجہد کا حاصل تھا۔ تحریک پاکستان میں جرنیلوں یا فوج کا کوئی کردار نہیں تھا اس لیے کہ اس وقت نہ جرنیل موجود تھے، نہ فوج موجود تھی۔ چناں چہ جنرل ایوب کا قومی سیاست میں کوئی کردار ہی نہیں تھا۔ بالفرض انہیں مارشل لا لگانا بھی تھا تو اس کے لیے امریکا کے آگے سجدہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ جنرل ایوب مارشل لا لگا کر بالغ حق رائے دہی
کی بنیاد پر انتخابات کراتے اور اقتدار فوری طور پر عوام کے منتخب نمائندوں اور پارلیمنٹ کے حوالے کرکے خود بیرکوں میں واپس چلے جاتے مگر جنرل ایوب نے ایسا نہیں کیا۔ انہوں نے عوام کی تائید کے بجائے امریکا کی سرپرستی میں مارشل لا لگایا اور عوام کو اقتدار و اختیار کے کھیل سے 10 سال کے لیے باہر کردیا۔ اس سے ثابت ہوا کہ پاکستان میں بالادستی عوام کی نہیں ہے جرنیلوں کی ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ اہمیت عوام کی خواہش کی نہیں جرنیلوں کے ڈنڈے کی ہے۔ جرنیل عوام کو طاقت کا محور خیال کرتے تو جنرل ایوب ملک میں ایک آدمی ایک ووٹ کا جمہوری اصول متعارف کراتے اور عوام کی اکثریت کی رائے سے صدر منتخب ہوتے۔ مگر جنرل ایوب نے ایسا نہیں کیا۔ انہوں نے ملک میں بی ڈی سسٹم متعارف کرادیا جس کے تحت پورے ملک سے 80 ہزار افراد قوم کے نمائندے منتخب ہوئے اور پورے 80 ہزار بی ڈی ممبرز نے جنرل ایوب کو ملک کا صدر منتخب کردیا۔ جنرل ایوب کے زمانے میں قائداعظم کی بہن اور مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح عوام میں مقبول تھیں۔ وہ حقیقی معنوں میں عوام کو طاقت کا محور بنا سکتی تھیں۔ مگر جنرل ایوب نے ان کی عوامی ساکھ کو برباد کرنے کے لیے ملک کے بڑے بڑے اخبارات میں نصف صفحے کے ایسے اشتہارات شائع کرائے جن میں فاطمہ جناح کو بھارتی ایجنٹ قرار دیا گیا تھا۔ ایک نوکر پیشہ حقیر جرنیل تو پاکستان کا مائی باپ بنا ہوا تھا اور ملک بنانے والے قائد اعظم کی بہن بھارتی ایجنٹ قرار دی جارہی تھیں۔ اس مثال سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان میں ابتدائی زمانے ہی سے طاقت کا محور عوام نہیں جرنیل اور ان کا ڈنڈا ہے۔ پاکستان میں عوام طاقت کا سرچشمہ ہوتے تو جنرل ایوب دس سال کی فوجی آمریت کے بعد عوام میں بڑے مقبول ہوتے مگر ایسا نہیں تھا۔ جنرل ایوب دس سال کے بعد بھی عوام میں مقبول نہیں تھے اس کے برعکس اس کے خلاف جو عوامی مظاہرے ہورہے تھے ان میں ایوب کتا ہائے ہائے کے نعرے لگ رہے تھے۔ لیکن چوں کہ پاکستان میں عوام طاقت کا سرچشمہ نہیں تھے اس لیے جنرل ایوب عوامی طاقت سے برطرف نہیں ہوئے بلکہ جنرل یحییٰ کی قیادت میں سینئر فوجی اہلکاروں نے ان کے خلاف بغاوت کی۔ اس بغاوت سے بھی ثابت ہوا کہ طاقت کا سرچشمہ جرنیل ہیں اور ایک جرنیل کو دوسرا جرنیل ہی کاٹ سکتا ہے۔ جنرل ایوب کے عہد کی ایک بہت اہم بات یہ تھی کہ انہوں نے ملک میں ون یونٹ متعارف کرایا تھا اس کا مقصد مشرقی پاکستان کی اکثریت کو زیر و زبر کرنا اور بنگالیوں کو مغربی پاکستان کا غلام بنانا تھا۔ پاکستان میں عوام طاقت کا مرکز محور یا سرچشمہ ہوتے تو ملک میں کبھی بھی ون یونٹ کا تجربہ نہیں ہوسکتا تھا۔
جنرل یحییٰ اقتدار میں آئے تو انہوں نے 1970ء میں ایک آدمی ایک ووٹ کے اصول پر انتخابات کرانے کا اعلان کیا۔ ان انتخابات میں شیخ مجیب الرحمن کی عوامی لیگ نے اکثریت حاصل کرلی۔ مگر جنرل یحییٰ نے اقتدار شیخ مجیب الرحمن اور ان کی جماعت کے حوالے کرنے کے بجائے مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن شروع کردیا۔ یہ آپریشن پاکستان دشمن اقدام تھا اور اس آپریشن نے دیکھتے ہی دیکھتے مشرقی پاکستان کو بنگلادیش میں تبدیل کردیا۔ اس صورت حال سے ایک بار پھر ثابت ہوا کہ پاکستان میں طاقت کا مرکز عوام نہیں جرنیل ہیں۔ حمودالرحمن کمیشن نے جنرل یحییٰ اور کئی دیگر جرنیلوں کے کورٹ مارشل کی سفارش کی۔ عوامی مطالبہ بھی یہی تھا مگر جنرل یحییٰ ٹھاٹ سے جیے اور پورے فوجی اعزاز کے ساتھ دفن کیے گئے۔ عام آدمی دس ہزار روپے کی چوری بھی کرلیتا ہے تو اس کی زندگی عذاب بن جاتی ہے مگر جنرل یحییٰ اور ان کے رفقا نے ملک توڑ دیا لیکن ان کا احتساب نہ ہوسکا۔ اس منظرنامے سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان میں طاقت کا سرچشمہ عوام نہیں جرنیل ہیں۔
ذوالفقار علی بھٹو نے ملک کو پہلا متفقہ اسلامی آئین دیا۔ انہوں نے ملک کے جوہری پروگرام کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے عوام میں یہ جذبہ پیدا کیا کہ ہم گھاس کھائیں گے مگر ایٹم بم بنائیں گے۔ انہوں نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا۔ انہوں نے پاکستان میں اسلامی ممالک کے سربراہوں کی کانفرنس منعقد کرائی۔ انہوں نے شراب کو ممنوع قرار دیا۔ انہوں نے جمعے کی تعطیل کا اعلان کیا۔ بھٹو صاحب ملک میں عوامی قوت کا مظہر تھے مگر جنرل ضیا الحق نے نہ صرف یہ کہ بھٹو کو برطرف کرکے ملک پر مارشل لا مسلط کردیا بلکہ انہوں نے بھٹو کے عدالتی قتل کی راہ بھی ہموار کی۔ اس سے ایک بار پھر ثابت ہوا کہ پاکستان میں اہم عوام نہیں جرنیل ہیں۔ جنرل ضیا الحق نے اقتدار میں آنے کے بعد 90 دن میں انتخابات کرانے کا اعلان کیا مگر وہ 90 مہینے میں بھی انتخابات نہ کراسکے۔ انہوں نے انتخابات کرائے بھی تو غیر جماعتی بنیادوں پر حالاں کہ جمہوریت میں عوام کی قوت کا مظہر سیاسی جماعتیں ہوتی ہیں۔ پاکستان میں عوام طاقت کا محور ہوتے تو جنرل ضیا الحق کبھی غیر جماعتی انتخابات کی راہ ہموار نہ کرتے۔ پیپلز پارٹی نے ایم آر ڈی کی پلیٹ فارم سے جنرل ضیا الحق کے خلاف تحریک چلائی مگر جنرل ضیا الحق نے طاقت کے زور سے ایم آر ڈی کی تحریک کو کچل دیا اور ثابت کیا کہ پاکستان میں طاقت کا سرچشمہ عوام نہیں جرنیل ہیں۔ جنرل ضیا الحق دس سال تک ملک کے سیاہ و سفید کے مالک رہے اور بالآخر امریکا نے ان کے طیارے کو دھماکے سے اڑا دیا۔ اہم بات یہ ہے کہ ان کے طیارے تک صرف ملک کے خفیہ اداروں کے اہلکاروں کی رسائی تھی۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ جنرل ضیا الحق کو فوج ہی کے عناصر نے راستے سے ہٹایا۔ اس سے بھی یہی ثابت ہوا کہ طاقت ور عوام نہیں فوج ہے۔ جنرل ضیا الحق خود تو چلے گئے مگر آئین میں جنرل ضیا الحق کی شامل کی گئی شق 58(2)B ان کے بعد بھی آئین میں موجود رہی اور اس کے تحت بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کی دو دو حکومتیں برطرف کی گئیں۔ اس مثال سے بھی جرنیلوں ہی کی طاقت ابھر کر ہمارے سامنے آتی ہے۔
جنرل پرویز مشرف نے جس وقت میاں نواز شریف کو اقتدار سے ہٹایا اس وقت میاں نواز شریف کو قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت حاصل تھی۔ پاکستان میں عوام طاقت کا سرچشمہ اور پارلیمنٹ بالادست ہوتی تو جنرل پرویز کو کبھی اقتدار پر قبضے کی جرأت نہ ہوتی۔ جنرل پرویز مشرف نے نائن الیون کے بعد ایک ٹیلی فون کال پر پورا پاکستان امریکا کے حوالے کیا تو عوام اس کے سخت خلاف تھے
چناں چہ ملک میں خانہ جنگی شروع ہوگئی مگر جنرل پرویز کے کان پر جوں تک رینگ کر نہ دی۔ اس صورت حال سے ایک بار پھر یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ پاکستان میں اصل طاقت جرنیل کے پاس ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ جنرل پرویز کے خلاف جو وکلا تحریک شروع ہوئی وہ کبھی کامیاب نہ ہوئی اگر اس کی پشت پر جنرل کیانی موجود نہ ہوتے۔ ہماری ایک بار آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل حمید گل سے ملاقات ہوئی تو ہم نے ان سے پوچھا کہ فوج پاکستان کے لیے ہے یا پاکستان فوج کے لیے۔؟ کہنے لگے تمہارے سوال کا میرے پاس کوئی جواب نہیں۔ انہوں نے ایسا اس لیے کہا کہ وہ اگر یہ کہتے کہ فوج ملک کے لیے ہے تو وہ سفید جھوٹ بولتے اور اگر وہ یہ تسلیم کرتے کہ ملک فوج کے لیے ہے تو وہ ایک بڑے جرم کا اعتراف کرتے۔ دنیا میں ملک ہیں اور ان کے پاس فوجیں ہیں مگر ہمارے یہاں ایک فوج ہے جس کے پاس ایک ملک ہے۔ یہی اصل حقیقت ہے۔ باقی جو کچھ ہے پروپیگنڈا ہے۔ عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش ہے۔ تاریخ کو مسخ کرنے کا عمل ہے۔ حقائق کو جھٹلانے کی روایت ہے۔ بلاشبہ آئین میں یہی کہا گیا ہے کہ حاکمیت اللہ تعالیٰ کی ہے، مگر اسلامی جمہوری پاکستان کے کسی ایک شعبے میں بھی اسلام غالب نہیں ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پاکستان میں عوام طاقت کا کہ پاکستان میں طاقت کا عوام نہیں جرنیل ہیں طاقت کا سرچشمہ جنرل ضیا الحق اور پارلیمنٹ طاقت کا مرکز طاقت کا محور ثابت ہوا کہ جنرل پرویز پاکستان کے جنرل یحیی جنرل ایوب انہوں نے عوام میں نہیں تھا مارشل لا عوام کی کہ جنرل رہے تھے تو جنرل بھی یہی ملک میں کے خلاف ایک بار فوجی ا کے بعد کے لیے ملک کے نے ملک اور ان سے بھی
پڑھیں:
امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
اسکردو (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 02 جون 2026ء ) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اسکردو کے مین بازار میں انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ انتخابی مہم میں آپ کے پاس آیا تھا اور جی بی کی ہر تحصیل میں گیا اور پورے جی بی کا دورہ کیا اور اسی وقت سے کہہ سکتا ہوں کہ جتنا جی بی میں نے دیکھا ہے وہ کسی سیاستدان نے نہیں دیکھا۔ ساری جماعتوں کے دورے ملا کر بھی ہمارے دوروں کے مقابلے میں کم ہیں۔ ہمارا صرف سیاسی رشتہ نہیں بلکہ نسلوں کا ساتھ ہے۔ میں یہ مہم بھی گزشتہ انتخابی مہم کی طرح کرنا چاہتا تھا۔ گزشتہ انتخابات میں خوشی کو ماحول تھا لیکن اب ہم سب کے لئے غم کا ماحول ہے۔ ایران میں جو شہادتیں ہوئیں ہیں، بچیوں کو شہید کیا ہے یہ غم کا ماحول ہے۔(جاری ہے)
جس طرح رمضان میں آیتہ اللہ خامنئی کو ان کی نواسی کے شہید کیا گیا وہ انتہائی قابل مذمت ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی امن پسند اور جنگ کے خلاف ہے۔ یہ کہانی ایران تک نہیں فلسطین اور لبنا ن میں بھی بے گنا ہ لوگوں شہید کیا گیا۔ فیلڈ مارشل امن کی جو کوشش کر رہے ہیں ہیں ہم سب دعاگو ہیں کہ یہ کوشش کامیاب ہو ۔ پوری مسلم دنیا اور دنیا بھر کے نوجوان اس جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ اس جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بے تحاشہ بڑھ گئی ہے اس لئے ہم اس جنگ کو ختم ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پی پی پی کی سیاست باقی جماعتوں سے مختلف ہے۔ ہم پسماندہ طبقہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کو حقوق دیتے ہیں اور غریب کا سوچتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ملک کی ترقی پسماندہ طبقے کی ترقی سے ہے۔ باقی جماعتیں امیروں کو مزید امیر بنانے کی پالیسی اختیار کرتے ہیں اور اسے نام ترقی کا دیا جاتا ہے۔ کسانوں، مزدوروں، نوجوانوں کی ترقی اصل ترقی ہے۔ قائد عوام شہید ذوالفقار بھٹو نے کسانوں کو زمین مہیا کی۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے لئے عوام کا نعرہ تھا “بینظیر آئے گی، روزگار لائے گی”۔ صدر زرداری نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں بی آئی ایس پی بنا کر روٹی، کپڑا اور مکان کو عملی شکل دی۔ بطور وزیرخارجہ مجھ سے دوسرے ممالک پوچھتے تھے کہ ہم بی آئی ایس پی کے ذریعے اپنے غریبوں کی بھی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ بدقسمتی اس ملک کی یہ ہے کہ ہمارے سیاستدان اور سیاسی جماعتیں ایسی ہیں کہ وہ سوچتی ہیں کہ اپنے امیر دوستوں کے لئے مراعات کیسے دیں اور وہ بی آئی ایس پی کی غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بی آئی ایس پی کی مدد پورے ملک کے غریب عوام کو ملتی ہے۔ ماﺅوں کی دعاﺅں کی وجہ سے ان کی بی آئی ایس پی کوختم کرنے کی سازش ناکام ہوگی۔ وزیراعظم آنے والے بجٹ میں بی آئی ایس پی میں اضافے کا اعلان کریں گے۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پی پی پی نے ملک کی دفاعی صلاحیت مضبوط کی ہے۔ اس وقت پاکستان واحد مسلم ایٹمی طاقت ہے اور کوئی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھ نہیں سکتا۔ یہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے تحفہ دیا ہے۔ وہ گڑھی خدا بخش سے پاکستان کا دفاع کر رہے ہیں۔ شہید بی بی نے میزائل ٹیکنالوجی دی کہ وہ اس بم کو لے کر دشمن تک پہنچ سکتے ہیں۔ آج پاکستان کا دفاع اسی وجہ سے ناقابل تسخیر ہے۔ اس کے بعد مشرف کا دور گزرا کہ جب دوسرے ممالک کو Bases بنانے کی اجازت دی گئی۔ صدر زرداری نے سلالہ واقعے کے بعد سارے Bases کو بند کیا۔ جب حال ہی میں مختلف ممالک میں بم دھماکے ہو رہے تھے تو میں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے بم اور شہید بی بی کا ذکر کروں گا تو صدر زرداری کو بھی خراج تحسین پیش کروں گا۔ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان ہر لحاظ سے مضبوط ہو صرف پی پی پی ہی معاشی طور پر یہ کام کر سکتی ہے۔ یہ تین نسلوں کی جدوجہد ہے۔ شہید ذوالفقارعلی بھٹو نے سرداری نظام ختم کیا۔ FCR کا خاتمہ کیا۔ قائدعوام نے بلتستان کی سرزمین پر کھڑے ہو کر اعلان کیا تھا کہ گھاس کھائیں گے لیکن ایٹم بم بنائیں گے۔ گندم اور پٹرول پر سبسیڈی قائدعوام نے دی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ سب کچھ جدوجہد سے حاصل کیا۔ جی بی کو پہلے ناردرن ایریا کہتے تھے صدر زرداری نے جی بی کا نام دیا۔ اب ہم نے مل کر جدوجہد کرکے شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بی بی کے مشن کو مکمل کرنا ہے۔ ہمیں تین اصولوں حق حاکمیت ، حق ملکیت اور حق روزگار پر عمل کرنا ہوگا۔ یہ تب ہوگا جب اٹھارہویں ترمیم کے مطابق دیگر صوبوں کی طرح حقوق جی بی کو بھی ملیں۔آپ کے پہاڑوں کے نیچے جو وسائل ہیں ان پر حق جی بی کے عوام کا ہے۔ وسائل پر پہلا حق جی بی کے عوام ہے اور اگر یہ حق ملکیت مل جائے تو پاکستان کی ترقی ہوگی جس طرح تھر کے کوئلے سے پورا پاکستان مستفید ہو رہا ہے۔ شہید بی بی نوے کی دہائی میں یہ منصوبہ شروع کرنا چاہتی تھیں لیکن اس کے راستے میں رکاوٹیں ڈالی گئیں۔ ہم نے یہ منصوبہ 2015 میں شروع کیا اور اس منصوبے کے سربراہ سندھ کے وزیراعلیٰ کو بنایا۔ اس منصوبے میں روزگار کا 80 فیصد تھر کے عوام کو دیا گیا۔ تھر کے منصوبے سے تھرکے عوام کو مفت بجلی دیتے ہیں۔ ہم نے تھر کے عوام کو تھر کول منصوبے میں ان کا شئیر دینا چاہا لیکن ان لوگوں نے پیسے لے لئے لیکن آپ کو اپنے وسائل میں شیئر لینا چاہیے۔ CPEC کا سب سے بڑا منصوبہ تھرکو ل کا ہے۔ جب آپ کو حق ملکیت ملے گا تو آپ وسائل کے حصہ دار ہوں گے۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہم ملازمتوں کے مواقع پیدا کریں لیکن دوسرے لوگ غریبوں کا روزگار چھینتے ہیں۔ یہ سمجھتے ہیں کہ امیر کو اور امیر بنائیں گے تو وہ نوکریاں دیں گے لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ ہماری سیاست عوام دوست اور غریب دوست ہے جبکہ دیگر لوگوں کی سیاست غریب دشمن اور امیردوست ہوتی ہے۔ اس لئے تیر پر مہر لگا کر غریب دوست حکومت بنائیں۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا میں جانتا ہوں کہ آپ کے ہاں بارشوں اور سیلاب سے بہت نقصان ہوتا ہے۔ سندھ میں بھی 2022 میں سیلاب آیا اور دو تہائی سندھ پانی کے نیچے چلا گیا۔ اس وقت سارے غریب لوگ مطالبہ کر رہے تھے کہ انہیں گھر بنا کر دئیے جائیں۔ یہ پاکستان کی پہلی حکومت جس نے غریب لوگوں کو گھر بنا کر دئیے۔ میں کسی صوبے سے نہیں عالمی سطح پر مقابلہ کرتا ہوں اور 20 لاکھ گھر بنانے بنانے کا منصوبہ دنیا میں سب سے بڑا منصوبہ ہے اور یہ گھر موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا کر سکتے ہیں۔ خواتین کو ان گھروں کا مالک بنایا اور زمین کی یہ منتقلی قائد عوام کے بعد سب سے بڑا منصوبہ ہے کیونکہ یہ زمین بھی خواتین کے نام کر رہے ہیں۔ 7 جون کو تیر پر مہر لگائی تو اسی طرح جی بی کی خواتین کو بھی گھر بنا کر دیں گے۔ ہم غریب اور عوام دوست ہیں اسی لئے بی آئی ایس پی اور گھروں کا منصوبہ دیتے ہیں ۔ سندھ میں ہسپتال بنائے، سندھ کا این آئی سی وی ڈی، این آئی سی ایچ، ایس آئی یوٹی اور ڈاﺅ میڈیکل کالج سے لے کر گمبٹ تک دل ، گردے، کینسر اور جگر کا علاج پورے پاکستان کے عوام کو مفت مہیا کرتے ہیں۔ دیگر صوبے ہسپتالوں کی نجکاری کرتے ہیں تاکہ ان کے امیر دوستوں کو فائدہ ہو۔ وسائل نہ ہونے کی وجہ سے کسی کو علاج سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 7جون کو انشااللہ جی بی کے عوام باہر نکلیں گے اور تیر پر مہر لگاکر پیپلزپارٹی کی حکومت بنائیں گے تاکہ حق حاکمیت، حق ملکیت اور حق روزگار، مفت علاج کے ادارے اور گھر بنانے کا منصوبہ شروع ہو سکے۔ ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سے جی بی کے عوام کی خدمت کریں گے اور آپ کو معاشی طور پر مضبوط کریں گے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں انہوں نے ڈاکٹر مبشر حسن کو ایک تحقیق کرنے کو کہا تھا جس سے 70 کی دہائی میں یہ بات سامنے آئی کہ جی بی میں ہم 50ہزار میگا واٹ بجلی بنا سکتے ہیں جو ہم بنا کر دکھائیں گے۔ یہ منصوبہ اسلام آباد میں کوئی بیوروکریٹ نہیں ہم اور آپ مل کر بنائیں گے اور اسلام آباد کو بجلی بیچیں گے۔ 7تاریخ کو اس صوبے کے عوام کو سوچنا ہے کہ آپس میں لڑ کر کسی اور کو فائدہ نہ پہنچائیں۔ پی پی پی کو بھاری اکثریت ملتی ہے تو ہم مسائل حل کر سکتے ہیں۔ ہم نے سکردو کو وزیراعلی اور گورنر دیا۔ یہ صرف مہدی شاہ کی عزت نہیں بلکہ سکردو کے عوام کی عزت ہے۔ اب میدان میں نئی نسل آگئی ہے اور آپ کے ووٹ اور ساتھ کی وجہ سے توقیر شاہ کو سکردو 1 سے جتوائیں گے۔ آپ سکردو 2 میں محمد علی شاہ کو ووٹ دیںسکردو 3 سے فدا محمد ناشاد کو جتوانا ہے۔ اسکردو4 میں راجہ ناصر علی خان کو منتخب کرنا ہے۔ خرمنگ کے اقبال حسین کو جتوانا ہے۔ گزشتہ انتخابات میں شگر سے عمران ندیم کو نہیں جیتنے دیا گیا تھا لیکن اس مرتبہ انہیں جتوانا ہے اور گھانچے1 سے ڈاکٹر عاشق حسین کو منتخب کرنا ہے۔ گھانچے 2 میں میری امیدوار آمنہ انصاری ہیں اور گھانچے 3 میں انجینئر محمد اسماعیل ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ انجینئر محمد اسماعیل کے حلقے سے جی بی ہاﺅسنگ اینی شئیٹو شروع کروں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے تمام امیدواروں سے ہاتھ کھڑے کروا کر وعدہ لیا کہ وہ منتخب ہوکر عوام کی خدمت کریں گے۔ انہوں نے عوام سے بھی وعدہ لیا کہ 7جون کو تیرپر مہر لگائیں تاکہ شہید قائد عوام اور شہید بی بی کے مشن کو مکمل کیا جا سکے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ پہلی مرتبہ آصفہ بی بی کو لے کر سکردو آئے ہیں اور اس امید کا اظہار کیا کہ جس طرح بلتستان کے عوام نے انہیں کبھی مایو س نہیں کیا اسی طرح بی بی آصفہ کو بھی مایوس نہیں کریں گے۔ خطاب کے آخر میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عوام کے ساتھ مل کر پارٹی کے لئے نعرے لگوائے۔