جسٹس ریٹائرڈ کوثر سلطانہ حسین ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی آف لا کی وائس چانسلر مقرر
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
صوبے کی سرکاری جامعات کی کنٹرولنگ اتھارٹی وزیر اعلی سندھ نے جسٹس (ر) کوثر سلطانہ حسین کو کراچی میں سرکاری سطح پر قانون کی تعلیم کی صوبے کی واحد یونیورسٹی "ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی آف لاء" کا وائس چانسلر مقرر کردیا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے منظوری کے بعد تقرری کا نوٹیفکیشن محکمہ یونیورسٹیز اینڈ بورڈز کی جانب سے جاری کردیا گیا یے، جس کے مطابق ان کی تقرری 4 برس کے لیے کی گئی ہے۔
نوٹی فکیشن کے مطابق تقرری کی سفارش پروفیسر ڈاکٹر طارق رفیع کی زیر صدارت وائس چانسلر کے انتخاب کے لیے موجود تلاش کمیٹی search committee نے کی تھی اور بھجوائے گئے پینل میں ان کا نمبر پہلا تھا ۔
یاد رہے کہ مذکورہ اسامی گزشتہ تقریبا 3 برس سے خالی تھی اور پہلے اس یونیورسٹی کا عارضی چارج ڈاؤ میڈیکل یونیورسٹی اور ازاں بعد سندھ مدرسہ الاسلام کے وائس چانسلر کے پاس رہا مذکورہ تقرری دوسری بار دیے گئے۔
اشتہار پر اسکروٹنی اور انٹرویو کے بعد کی گئی ہے کیونکہ پہلی بار دیے گئے اشتہار میں اسکروٹنی اور انٹرویو کے بعد کوئی امیدوار بھی 50 فیصد سے زائد نمبر نہیں کے سکا تھا، جس کے بعد تلاش کمیٹی نے وزیر اعلی سندھ سے اس اسامی کو re advertise کرنے کی سفارش کی تھی تاہم اس فیصلے میں خاصا وقت لگ گیا۔
علاوہ ازیں "ایکسپریس" کے رابطہ کرنے پر جسٹس کوثر سلطانہ کا کہنا تھا کہ وہ جمعہ کو اپنے عہدے کا چارج سنبھالیں گی وہ دیانت داری کے ساتھ کام پر یقین رکھتی ہیں اور امید ہے کہ یونیورسٹی کی بہتری کے لیے جلد مشکلات پر قابو پالیں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وائس چانسلر کے بعد
پڑھیں:
اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ میں منشیات برآمدگی کیس میں جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہاکہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں، کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں،اے این ایف کیا کررہا ہے ، ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیئے جاتے ہیں،ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کیساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سپریم کورٹ میں منشیات برآمدگی کیس میں ملزمہ کی درخواست ضمانت پرسماعت ہوئی،جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3رکنی بنچ نے سماعت کی،ملزمہ کے وکیل نے عدالت کے رو برو اے این ایف ریڈکی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی،عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دیدیا۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
وکیل نے کہاکہ واضح دیکھا جا سکتا ہے اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آیا، خودمنشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایاگیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کردی،جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہاکہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آ رہے ہیں،وکیل اے این ایف نے کہاکہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کئے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہاکہ اے این ایف کے 10اہلکار تھے مگر 2لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں؟ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی،وکیل احسن بھون نے کہاکہ گارڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیاگیا ہے،
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہاکہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں ،خداکا خوف کریں، کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں،اے این ایف کیا کررہا ہے ، ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیئے جاتے ہیں،ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کیساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ جوانی ہمیشہ نہیں رہتی، کچھ خیال کیا کریں۔سپریم کورٹ نے 5لاکھ روپے مچلکوں کے عوض ملزمہ کی ضمانت منظورکرلی۔
لاہور ائیرپورٹ اغواء کیس کا ڈراپ سین، غیرملکی خاتون دوست کے ساتھ رضامندی سے گئی
مزید :