data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لاہور: شہر میں بڑھتی ہوئی اسموگ اور فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے ماہرین ماحولیات نے 90 روزہ ہنگامی ایکشن پلان تجویز کیا ہے جس پر فوری عمل درآمد کی سفارش کی گئی ہے، یہ منصوبہ لاہور میں “کوڈ فار پاکستان” کے تحت مکالمہ گفتگو کے دوران پیش کیا گیا، جس میں حکومتی نمائندوں، ماہرین ماحولیات، قانون دانوں، کسانوں اور نجی شعبے کے رہنماؤں نے شرکت کی۔

میڈیا رپورٹس کےمطابق ماہرین ماحولیات نے کہا کہ اگر فضائی آلودگی پر قابو نہ پایا گیا تو لاہور کے شہریوں کی اوسط عمر سات سال تک کم ہوسکتی ہے، گزشتہ برس صرف ایک ماہ میں پنجاب کے اسپتالوں میں 19 لاکھ مریض سانس کی بیماریوں کے علاج کے لیے لائے گئے تھے، جو مسئلے کی شدت کو واضح کرتا ہے۔

ادارہ تحفظ ماحولیات لاہور کے ڈپٹی ڈائریکٹر علی اعجاز نے اسموگ کو صحت عامہ کا سنگین بحران قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے کا حل صرف اس وقت ممکن ہے جب تمام ادارے مل کر جامع اقدامات کریں۔

ماحولیاتی وکیل رافع عالم نے کہا کہ ایسی مہمات شہریوں، ماہرین اور پالیسی سازوں کو اکٹھا کرکے عملی حل تلاش کرنے کا موقع فراہم کرتی ہیں، جو طویل المدتی تبدیلی کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔

ماہرین کی سفارشات کے مطابق ایکشن پلان میں فصلوں کی باقیات جلانے پر مکمل پابندی اور کسانوں کو متبادل ذرائع فراہم کرنے، کوڑا کرکٹ جلانے کے خاتمے، دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف سخت کارروائی اور صرف جدید ٹیکنالوجی والے بھٹوں کو چلانے کی اجازت دینے کی تجاویز شامل ہیں۔ اس کے علاوہ شاہراہوں پر شجرکاری، تعلیمی اداروں میں سبزہ بڑھانے، آگاہی مہمات، رائیڈ شیئرنگ اور الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کے فروغ پر بھی اتفاق کیا گیا۔

اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ بعض اداروں کے پاس مستند ڈیٹا ہے مگر نفاذ کی صلاحیت نہیں، کچھ کے پاس منصوبے ہیں مگر عوامی سطح پر رسائی نہیں، جبکہ بعض ادارے عوامی رابطے تو رکھتے ہیں لیکن عملی حکمت عملی نہیں۔ اس خلا کو پر کرنے کے لیے مشترکہ تعاون پر اتفاق کیا گیا۔

کوڈ فار پاکستان کی کمیونٹی منیجر خانسہ خاور نے بتایا کہ ماہرین کی تجاویز کو باضابطہ طور پر ایکشن پلان کی شکل میں حکومت کو بھیجا جائے گا۔ ان کے مطابق دی اربن یونٹ، پاکستان ائیرکوالٹی انیشیٹو اور ادارہ تحفظ ماحولیات ائیر کوالٹی سے متعلق ڈیٹا اکٹھا کرکے سوشل میڈیا اور تعلیمی اداروں کے لیے آگاہی مہم چلائیں گے، جبکہ شہریوں کو آرگینک فارمنگ کی طرف راغب کرنے کی بھی کوشش کی جائے گی۔

خیال رہے کہ حکومت پنجاب پہلے ہی ایک “اسموگ وار روم” قائم کر چکی ہے، تاہم نومبر 2024 میں لاہور کا فضائی معیار دنیا کے بدترین درجوں میں شامل رہا تھا، جب ایک دن ایئر کوالٹی انڈیکس 1165 تک پہنچ گیا تھا۔ ماہرین کے مطابق فضائی آلودگی کے باعث پاکستان بھر میں اوسطاً عمر میں 3.

9 سال جبکہ لاہور جیسے بڑے شہروں میں سات سال تک کمی واقع ہورہی ہے۔

دوسری جانب حکومت پنجاب نے فضائی آلودگی اور اسموگ کے تدارک کے لیے متعدد اقدامات شروع کیے ہیں، جن میں کسانوں کو خصوصی مشینری فراہم کرنا، بھٹوں کو زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل کرنا، تحفظ ماحولیات فورس کی تشکیل، الیکٹرک بسوں کی فراہمی، سڑکوں پر پانی کے چھڑکاؤ کے لیے گاڑیاں تعینات کرنا اور فضائی معیار کی نگرانی کے لیے ایئر کوالٹی مانیٹرنگ سسٹم شامل ہیں۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: فضائی آلودگی ایکشن پلان کے لیے

پڑھیں:

امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر

ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے  ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔

کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ارکان پارلیمنٹ کی رہائش کیلیے فیملی سوٹس؛ بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص کرنے کی تجویز
  • پی سی بی کا چاچا کرکٹ کیلیے یادگاری تحفہ
  • بحر اوقیانوس کے اوپر سیکیورٹی الرٹ، طیارہ پونے 4 گھنٹے بعد واپس لوٹ آیا
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو 41 رنز سے شکست دے دی
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف دے دیا
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا آسٹریلیا کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی