لاہور میں اسموگ اور فضائی آلودگی کے تدارک کیلیے 90 روزہ ہنگامی ایکشن پلان تجویز
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور: شہر میں بڑھتی ہوئی اسموگ اور فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے ماہرین ماحولیات نے 90 روزہ ہنگامی ایکشن پلان تجویز کیا ہے جس پر فوری عمل درآمد کی سفارش کی گئی ہے، یہ منصوبہ لاہور میں “کوڈ فار پاکستان” کے تحت مکالمہ گفتگو کے دوران پیش کیا گیا، جس میں حکومتی نمائندوں، ماہرین ماحولیات، قانون دانوں، کسانوں اور نجی شعبے کے رہنماؤں نے شرکت کی۔
میڈیا رپورٹس کےمطابق ماہرین ماحولیات نے کہا کہ اگر فضائی آلودگی پر قابو نہ پایا گیا تو لاہور کے شہریوں کی اوسط عمر سات سال تک کم ہوسکتی ہے، گزشتہ برس صرف ایک ماہ میں پنجاب کے اسپتالوں میں 19 لاکھ مریض سانس کی بیماریوں کے علاج کے لیے لائے گئے تھے، جو مسئلے کی شدت کو واضح کرتا ہے۔
ادارہ تحفظ ماحولیات لاہور کے ڈپٹی ڈائریکٹر علی اعجاز نے اسموگ کو صحت عامہ کا سنگین بحران قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے کا حل صرف اس وقت ممکن ہے جب تمام ادارے مل کر جامع اقدامات کریں۔
ماحولیاتی وکیل رافع عالم نے کہا کہ ایسی مہمات شہریوں، ماہرین اور پالیسی سازوں کو اکٹھا کرکے عملی حل تلاش کرنے کا موقع فراہم کرتی ہیں، جو طویل المدتی تبدیلی کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔
ماہرین کی سفارشات کے مطابق ایکشن پلان میں فصلوں کی باقیات جلانے پر مکمل پابندی اور کسانوں کو متبادل ذرائع فراہم کرنے، کوڑا کرکٹ جلانے کے خاتمے، دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف سخت کارروائی اور صرف جدید ٹیکنالوجی والے بھٹوں کو چلانے کی اجازت دینے کی تجاویز شامل ہیں۔ اس کے علاوہ شاہراہوں پر شجرکاری، تعلیمی اداروں میں سبزہ بڑھانے، آگاہی مہمات، رائیڈ شیئرنگ اور الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کے فروغ پر بھی اتفاق کیا گیا۔
اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ بعض اداروں کے پاس مستند ڈیٹا ہے مگر نفاذ کی صلاحیت نہیں، کچھ کے پاس منصوبے ہیں مگر عوامی سطح پر رسائی نہیں، جبکہ بعض ادارے عوامی رابطے تو رکھتے ہیں لیکن عملی حکمت عملی نہیں۔ اس خلا کو پر کرنے کے لیے مشترکہ تعاون پر اتفاق کیا گیا۔
کوڈ فار پاکستان کی کمیونٹی منیجر خانسہ خاور نے بتایا کہ ماہرین کی تجاویز کو باضابطہ طور پر ایکشن پلان کی شکل میں حکومت کو بھیجا جائے گا۔ ان کے مطابق دی اربن یونٹ، پاکستان ائیرکوالٹی انیشیٹو اور ادارہ تحفظ ماحولیات ائیر کوالٹی سے متعلق ڈیٹا اکٹھا کرکے سوشل میڈیا اور تعلیمی اداروں کے لیے آگاہی مہم چلائیں گے، جبکہ شہریوں کو آرگینک فارمنگ کی طرف راغب کرنے کی بھی کوشش کی جائے گی۔
خیال رہے کہ حکومت پنجاب پہلے ہی ایک “اسموگ وار روم” قائم کر چکی ہے، تاہم نومبر 2024 میں لاہور کا فضائی معیار دنیا کے بدترین درجوں میں شامل رہا تھا، جب ایک دن ایئر کوالٹی انڈیکس 1165 تک پہنچ گیا تھا۔ ماہرین کے مطابق فضائی آلودگی کے باعث پاکستان بھر میں اوسطاً عمر میں 3.
دوسری جانب حکومت پنجاب نے فضائی آلودگی اور اسموگ کے تدارک کے لیے متعدد اقدامات شروع کیے ہیں، جن میں کسانوں کو خصوصی مشینری فراہم کرنا، بھٹوں کو زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل کرنا، تحفظ ماحولیات فورس کی تشکیل، الیکٹرک بسوں کی فراہمی، سڑکوں پر پانی کے چھڑکاؤ کے لیے گاڑیاں تعینات کرنا اور فضائی معیار کی نگرانی کے لیے ایئر کوالٹی مانیٹرنگ سسٹم شامل ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فضائی آلودگی ایکشن پلان کے لیے
پڑھیں:
ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
اسلام ٹائمز: کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔ اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث، وضو، صوم، صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ چھوٹی تصاویر تصاویر کی فہرست سلائیڈ شو
ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسینؑ میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔ اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث، وضو، صوم، صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی، تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔