حکومت کی مذاکراتی پیشکش مسترد، آزاد کشمیر میں احتجاج شدت اختیار کر گیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مظفرآباد: حکومت کی جانب سے بارہا مذاکرات کی پیشکش کے باوجود آزاد کشمیر میں پُرتشدد مظاہرے نہ رک سکے۔ عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج کی آڑ میں شرپسند عناصر نے آج بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنایا اور مختلف شہروں میں کشیدگی برقرار رہی۔
پولیس حکام کے مطابق مشتعل افراد نے اہلکاروں پر دھاوا بولتے ہوئے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا، کیلوں والے ڈنڈوں سے وار کیے، اسلحہ چھین کر فائرنگ کی اور سامان لوٹ لیا۔ زخمی اہلکاروں نے الزام لگایا کہ مظاہرین نے انہیں یرغمال بنایا، وردیاں پھاڑ دیں اور پتھراؤ کے بعد گولیاں چلائیں۔ پرتشدد کارروائیوں کے نتیجے میں وفاقی پولیس کے 31 اہلکار جبکہ آزاد کشمیر پولیس کے 12 اہلکار زخمی ہوئے، جنہیں پمز اسپتال منتقل کیا گیا۔
مظفرآباد، میرپور اور راولاکوٹ سمیت کئی اضلاع میں ہنگاموں اور پرتشدد احتجاج کے باعث معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے، دکانیں اور کاروباری مراکز بند رہے جبکہ شہریوں میں خوف و ہراس کی فضا قائم رہی۔
وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے پمز اسپتال میں زیرِ علاج زخمی اہلکاروں کی عیادت کی اور کہا کہ شرپسندوں کے مذموم عزائم کو ہرگز کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر وفاقی مذاکراتی کمیٹی اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے درمیان بات چیت کا سلسلہ جاری ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق مظفرآباد میں جاری مذاکرات خوشگوار ماحول میں ہورہے ہیں اور کمیٹی کو امید ہے کہ کشمیری عوام کے مسائل ان کی امنگوں کے مطابق بات چیت سے حل کیے جائیں گے۔
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ خان نے بھی یقین دہانی کرائی کہ آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے عوام کے جائز مطالبات ضرور پورے کیے جائیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
اسلام آباد: وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومت اور پیپلز پارٹی کے مذاکرات نتیجہ خیزنہ ہوسکے۔ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کو گلہ ہے کہ بجٹ پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومتی ٹیم اور پیپلز پارٹی کے درمیان اجلاس ختم ہوگیا۔اجلاس میں کوئی آئینی ترمیم زیر بحث نہیں۔ این ایف سی میں تبدیلی پر بھی کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں پیپلزپارٹی کے خدشات دور نہ کیے جاسکے۔ پیپلزپارٹی اور حکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہوگا۔اس سے پہلے5 جون کو ہونے والا بجٹ اجلاس مؤخر کردیا گیا تھا،نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا تھا۔پارلیمانی ذرائع کا کہنا تھا حکومت بجٹ سے پہلے اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان نے بھی کامران ٹیسوری کی بطور گورنر سندھ تعیناتی کو بجٹ منظوری سے مشروط کیا تھا۔