ایلون مسک کا منفرد اعزاز؛ 500 ارب ڈالر کی ارننگ سے سب کو پیچھے چھوڑ دیا، نیا ریکارڈ قائم
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک نے دولت مندی کا ایک ایسا نیا ریکارڈ قائم کیا ہے جس کی مثال نہیں ملتی۔
امریکی جریدے فوربز کی ایک رپورٹ کے مطابق ٹیسلا اور اسپیس ایکس جیسی کمپنیوں کے مالک ایلون مسک 500 ارب ڈالرز کمانے والے دنیا کے پہلے فرد بن گئے ہیں۔
فوربز بلین ائیر انڈیکس کے مطابق یکم اکتوبر کو ایلون مسک کے اثاثے 500 ارب ڈالرز سے تجاوز کرگئے جس میں بعد ازاں معمولی کمی آئی اور وہ ابھی 499.
ایسا ان کی کمپنی ٹیسلا کے حصص کی قیمتوں اور دیگر کمپنیوں کی قدر میں اضافے کی بدولت ہوا۔
واضح رہے کہ ایلون مسک ٹیسلا کے 12.4 فیصد حصص کے مالک ہیں اور ان کی مجموعی دولت کا بیشتر حصہ بھی اسی کمپنی کے حصص سے منسلک ہے۔
اس کمپنی کے حصص میں رواں سال کے دوران اب تک 14 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوچکا ہے جبکہ یکم اکتوبر کو حصص کی قدر میں 3 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا جس سے ایلون مسک کی دولت میں 6 ارب ڈالرز سے زائد کا اضافہ ہوا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ کچھ ماہ پہلے تک ایلون مسک کے اثاثوں میں تیزی سے کمی دیکھنے میں آرہی تھی۔
مگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ساتھ چھوڑنے کے بعد ایلون مسک نے اپنی کمپنیوں پر دوبارہ توجہ مرکوز کی۔
کچھ دن قبل انہوں نے ٹیسلا کے ایک ارب ڈالرز مالیت کے حصص خریدے تھے جس سے اس کمپنی کے مستقبل پر ان کے اعتماد کا اظہار ہوا اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بحال ہوا۔
ایلون مسک کی دیگر کمپنیوں اسپیس ایکس اور ایکس اے آئی کی قدر میں بھی رواں سال کے دوران اضافہ دیکھنے میں آیا۔
جولائی میں ایکس اے آئی کی قدر 75 ارب ڈالرز تھی جبکہ اسپیس ایکس کی قدر 400 ارب ڈالرز کے قریب تھی۔
اس سے قبل دسمبر 2024 میں ایلون مسک 400 ارب ڈالرز کمانے والے دنیا کے پہلے شخص بنے تھے۔
خیال رہے کہ ستمبر 2024 میں انفارما کنکٹ اکیڈمی کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ایلون مسک کی دولت میں سالانہ 110 فیصد کی اوسط سے اضافہ ہو رہا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ اگر یہ سلسلہ برقرار رہا تو ایلون مسک 2027 میں ٹریلین ائیر یا ایک ہزار ارب ڈالرز کے مالک پہلے فرد ہوں گے۔
اب ایلون مسک 499 ارب ڈالرز کے ساتھ دنیا کے دوسرے امیر ترین شخص اور اوریکل کمپنی کے شریک بانی لیری ایلیسن (350.7 ارب ڈالرز) سے لگ بھگ 150 ارب ڈالرز زیادہ کے مالک ہیں۔
میٹا کے چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ 245 ارب ڈالرز کے ساتھ دنیا کے تیسرے امیر ترین شخص ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: ارب ڈالرز کے ایلون مسک کمپنی کے کے مالک دنیا کے کی قدر کے حصص
پڑھیں:
بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
دنیا کی سب سے بڑی اور مقبول ترین کرپٹو کرنسی ’بٹ کوائن‘ کی قیمت میں اچانک تاریخی گراوٹ دیکھی گئی ہے، جس کے بعد یہ 70 ہزار ڈالر کی نفسیاتی سطح سے بھی نیچے گر گیا ہے۔
مارکیٹ رپورٹ کے مطابق اس اچانک کمی کے نتیجے میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرپٹو مارکیٹ سے تقریباً 80 کروڑ (800 ملین) ڈالر مالیت کی لیوریجڈ ٹریڈنگ پوزیشنز یکدم ختم (لیکویڈیٹ) ہو گئی ہیں، جس سے سرمایہ کاروں کو شدید ترین نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
قیمتوں میں گراوٹ اور مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں کمیمارکیٹ کے تازہ ترین ڈیٹا کے مطابق منگل کو ’بٹ کوائن‘ کی قیمت گر کر تقریباً 69,400 ڈالر کی کم ترین سطح پرآگئی، جو گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 4.4 فیصد کی نمایاں ترین کمی کو ظاہر کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا مذاکرات کا دوسرا دور، بٹ کوائن کی قیمت پر کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں؟
مارکیٹ کیپٹلائزیشن کے لحاظ سے دنیا کی سرفہرست 10 کرپٹو کرنسیوں میں یہ سب سے بڑی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ بٹ کوائن کے اس زوال کے اثرات پوری کرپٹو مارکیٹ پر مرتب ہوئے، جس کے باعث مجموعی ڈیجیٹل مارکیٹ ویلیو 3 فیصد سے زیادہ کمی کے بعد تقریباً 2.47 ٹریلین ڈالر تک نیچے آگئی ہے۔
ٹریڈرزکے کروڑوں ڈالر ڈوب گئےکرپٹو مارکیٹ کے اعداد و شمار فراہم کرنے والے معتبر عالمی ادارے ’کوائن گلاس‘ کے مطابق حالیہ فروخت کے شدید دباؤ کی وجہ سے 24 گھنٹوں میں 800 ملین ڈالر کی پوزیشنز مارکیٹ سے آؤٹ ہوئیں۔
ڈیٹا کے مطابق لانگ پوزیشنزمیں تقریباً 700 ملین ڈالر (قیمت بڑھنے کی امید پر لگائے گئے سودے) جبکہ شارٹ پوزیشنز میں تقریباً 100 ملین ڈالر (قیمت گرنے کی امید پر لگائے گئے سودے) شامل ہیں۔
سب سے زیادہ نقصان بٹ کوائن سے منسلک ٹریڈرز کو برداشت کرنا پڑا، جن کی تقریباً 500 ملین ڈالر مالیت کی پوزیشنز ڈوب گئیں، جو کہ مجموعی مارکیٹ لیکویڈیشنز کا سب سے بڑا حصہ ہے۔
’ای ٹی ایف‘ آؤٹ فلو دباؤ میں اضافہکرپٹو کرنسی سے وابستہ مبصرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق اس بڑی فروخت کی سب سے بڑی وجہ اسپاٹ بٹ کوائن ایکسچینج ٹریڈ فنڈ (ای ٹی ایف) سے سرمایہ کاروں کا مسلسل پیسہ نکالنا ہے۔
مزید پڑھیں:مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران بٹ کوائن مضبوط، قیمت 80 ہزار ڈالر تک پہنچنے کا امکان
اسپاٹ بٹ کوائن ای ٹی ایف سے مسلسل 11 تجارتی سیشنز سے سرمایہ کا اخراج (نیٹ آؤٹ فلو) ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جبکہ اسپاٹ ’ایتھیریم ای ٹی ایف‘ سے بھی مسلسل 15 سیشنز سے سرمایہ نکالا جا رہا ہے۔
کرپٹو تجزیہ کار ’ایمبر سی این‘ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ جب سے اسپاٹ ای ٹی ایف مصنوعات کا آغاز ہوا ہے، بٹ کوائن اور ایتھیریم کی قیمتیں ای ٹی ایف فنڈز کے بہاؤ سے بہت زیادہ منسلک ہو چکی ہیں، یہی وجہ ہے کہ فنڈز کے اخراج کا براہِ راست اور فوری اثر قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔
ایتھیریم مارکیٹ میں نسبتاً مستحکمدلچسپ بات یہ ہے کہ اس شدید مندی کے دوران دوسری بڑی کرپٹو کرنسی ’ایتھیریم‘ نے مارکیٹ میں نسبتاً بہتر اور مستحکم کارکردگی دکھائی۔ ایتھیریم کی قیمت تقریباً 1,970 ڈالر کے قریب برقرار رہی اور اس میں بٹ کوائن کے مقابلے میں کم اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔
ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ اگر ای ٹی ایف سے سرمایہ کے اخراج کا یہ سلسلہ نہ رکا تو کرپٹو مارکیٹ پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ عالمی سرمایہ کار آنے والے چند دنوں میں مارکیٹ کے رجحان پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اخراج ای ٹی ایف بٹ کوائن ڈالر سرمایہ کاروں عالمی سرمایہ کرپٹو مارکیٹ گراوٹ ماہرین معیشت ملین ڈالر