اسلام آباد (خبرنگار خصوصی+ اپنے سٹاف رپورٹر سے+ نوائے وقت رپورٹ+ آئی این پی) وزیراعظم کی ہدایت پر حکومتی ٹیم نے آزاد کشمیر کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے مذاکرات کا باضابطہ آغاز کردیا ہے۔ وزیراعظم شہبازشریف نے آزاد کشمیرکی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ناخوشگوار واقعات کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ تفصیل کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے بنائی گئی اعلیٰ سطح کمیٹی نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے نمائندوں سے باضابطہ بات چیت کا آغاز کر دیا۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے آزاد کشمیر کی صورتحال پر نوٹس لیے جانے کے بعد مظاہرین سے مذاکرات کے لیے حکومتی کمیٹی مظفرآباد پہنچی ہے جو مسائل کے فوری اور دیرپا حل کے لیے مذاکرات کر رہی ہے۔ وزیراعظم کی کمیٹی میں وفاقی وزراء اور پیپلز پارٹی کی قیادت موجود ہے۔ راجہ پرویز اشرف کی سربراہی میں قائم توسیع شدہ کمیٹی میں ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، امیر مقام، احسن اقبال، سردار یوسف، قمر زمان کائرہ اور سردار مسعود احمد، وزیراعظم آزاد کشمیر چودھری انوار اور رانا ثناء شامل ہیں۔ طارق فضل چوہدری نے ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ پاکستان کے اعلیٰ سطح کے وفد نے آج مظفرآباد میں آزاد جموں و کشمیر کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے نمائندوں سے باضابطہ بات چیت کا آغاز کر دیا ہے۔ مظفرآباد روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو میں وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا اس وقت ایسے عناصر موجود ہیں جو پاکستان کے امن اور استحکام کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔ اس موقع پر وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہاکہ عوامی ایکشن کمیٹی سے مذاکراتی عمل بحال کیا جارہا ہے اور جو مطالبات رہ گئے ہیں ان پر بات چیت ہوگی۔ راجہ پرویز اشرف نے بتایا کہ مسائل کا حل مذاکرات سے ہی ممکن ہے، کوشش ہے جتنا جلد ممکن ہو صورتحال کو معمول پر لایا جائے۔ قبل ازیں وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے آزاد کشمیر کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مظاہرین کے ساتھ تحمل سے پیش آنے اور کسی بھی قسم کی غیر ضروری سختی سے اجتناب کی ہدایت کی ہے اور حکومتی سطح پر مسئلے کے پرامن حل کے لیے مذاکراتی کمیٹی میں توسیع کر دی۔ وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جمعرات کو جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے آزاد کشمیر کی صورت حال کا سخت نوٹس لیتے ہوئے وہاں کے شہریوں سے پْر امن رہنے کی اپیل کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی و جمہوری حق ہے تاہم مظاہرین امن عامہ کو نقصان پہنچانے سے گریز کریں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اپنے کشمیری بھائیوں کے مسائل کو حل کرنے کے لیے ہر وقت تیار ہے۔ وزیر اعظم نے ایکشن کمیٹی کے ارکان اور قیادت سے اپیل کی کہ وہ حکومتی مذاکراتی کمیٹی سے تعاون کریں۔ کمیٹی اپنی سفارشات اور مجوزہ حل بلا تاخیر وزیراعظم آفس کو بھجوائے گی تاکہ مسائل کے فوری تدارک کے لیے اقدامات کئے جا سکیں۔ وزیر اعظم نے وطن واپسی پر مذاکرات کے عمل کی خود نگرانی کرنے کا اعلان کیا۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے آزاد کشمیر کے عوام سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے۔ اپنے ایکس اکائونٹ پر جاری پیغام میں وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر میں احتجاج کرنے والے حضرات سے درخواست ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کی تین نسلوں کی جدوجہد پر غور کریں، جو آپ کو میسر ہے اس کا عشر عشیر کا بھی وہ تصور نہیں کر سکتے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے جمعرات کو پمز ہسپتال کا دورہ کیا۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے پمز ہسپتال میں آزاد کشمیر میں زخمی ہونے والے اسلام آباد پولیس اور آزاد کشمیر پولیس کے اہلکاروں کی عیادت کی۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے ہسپتال انتظامیہ کو زخمی پولیس اہلکاروں کو بہترین طبی سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ وزیر داخلہ نے زخمی پولیس اہلکاروں کے جذبے اور بہادری کو سراہا۔اوورسیز ایم ایل اے محمد اقبال نے آزاد جموں و کشمیر اسمبلی سے استعفا دے دیا۔ محمد اقبال نے کہا کہ شہری کی حیثیت سے سماجی منصوبوں پر کام جاری رکھوں گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: جوائنٹ ایکشن کمیٹی زاد کشمیر کی وزیر داخلہ سے مذاکرات شہباز شریف کمیٹی سے کی ہدایت نے کہا کے لیے

پڑھیں:

دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن(Establishment Division) نے دفتری نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ ماحول کو بہتر بنانے کے لیے نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات، بائیومیٹرک حاضری اور لباس کے ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔

جاری کردہ سرکلر کے مطابق تمام ملازمین کے لیے صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے سرکاری اوقاتِ کار پر مکمل عمل درآمد لازمی ہوگا، جبکہ مقررہ وقت پر دفاتر میں حاضری یقینی بنانے کے لیے بائیومیٹرک حاضری کے نظام پر سختی سے عمل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

سرکلر میں سرکاری ملازمین کے لیے ڈریس کوڈ بھی واضح کیا گیا ہے۔ ہدایات کے مطابق افسران اور اہلکار یا تو لاؤنج سوٹ پہنیں یا پھر شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ زیب تن کریں تاکہ دفاتر میں پیشہ ورانہ اور باوقار ماحول برقرار رکھا جا سکے۔

مزیدپڑھیں:آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے راہداریوں میں شور شرابے اور بلند آواز میں گفتگو سے بھی گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، تاکہ سرکاری امور کی انجام دہی کے دوران پرسکون اور منظم ماحول برقرار رہے۔

سرکلر میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تمام ہدایات فوری طور پر نافذ العمل ہیں اور متعلقہ افسران کو ان پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کی فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری