آزاد کشمیر کے امن کو خراب کرنے کی شرپسندوں کی کوشش ہر گز کامیاب نہیں ہونے دیں گے، وزیر داخلہ محسن نقوی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کے امن کو خراب کرنے کی شرپسندوں کی کوشش ہر گز کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ وہ جمعرات کو پمز ہسپتال میں آزاد کشمیر احتجاج کے دوران زخمی ہونے والے پولیس جوانوں کی عیادت کے موقع پر گفتگو کر رہے تھے۔ ،وہ فرداً فرداً ہر زخمی اہلکار کے پاس گئے اور خیریت دریافت کی ۔ محسن نقوی نے ہسپتال انتظامیہ کو زخمی پولیس اہلکاروں کو بہترین طبی سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت کی۔وزیر داخلہ نے زخمی پولیس اہلکاروں کے جذبے اور بہادری کو سراہتے ہوئے کہا کہ آپ سب نے انتہائی ہمت، حوصلے اور جوانمردی سے اپنے فرائض سرانجام دیے، شرپسندی کے باوجود اپ نے تحمل سے کام لیا، آپ پاکستان کے بہادر سپوت ہیں اور ہم سب کو آپ پر ناز ہے۔ محسن نقوی نے چیف کمشنر کو آئی جی اسلام آباد و آزاد کشمیر پولیس کے جوانوں کا خصوصی خیال رکھنے کی ہدایت بھی کی۔وزیر داخلہ نے زخمی پولیس اہلکاروں کی حوصلہ افزائی کی۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ پرامن احتجاج ہر کسی کا حق ہے لیکن قانون ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی، پاکستانیوں کے دل کشمیریوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کشمیری بھائیوں کے مسائل کے حل کے لئے ہمہ وقت تیار ہے۔چیف کمشنر اسلام آباد ، آئی جی پولیس اور دیگر حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔ پمز ہسپتال میں اسلام آباد پولیس کے 31 اور آزاد کشمیر پولیس کے 12 اہلکار زیر علاج ہیں۔
روس کی نیٹو اتحاد پر حملہ کرنے کی کوئی نیت نہیں ، پیوٹن
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: وزیر داخلہ اسلام آباد کرنے کی
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔