متحدہ عرب امارات اورپاکستان کا حکومتی شعبوں میں تعاون کے ایکشن پلان پر تیز رفتار برقرار رکھنے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 اکتوبر2025ء)متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور پاکستان کا حکومتی شعبوں میں تعاون کے ایکشن پلان پر تیز رفتار برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔یہ اتفاق رائے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے کابینہ امور کے نائب وزیر برائے کمپیٹی ٹیونس اور ایکسپیرینس ایکسچینج عبداللہ ناصر لوتاہ اور وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلویز اور وزیراعظم کے ڈیلیوری یونٹ (پی ایم ڈی یو) کے سربراہ بلال اظہر کیانی کے درمیان ملاقات میں کیا گیا۔
عبداللہ ناصر لوتاہ سے وزیر مملکت بلال اظہر کیانی نے دبئی میں خصوصی ملاقات کی اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ عبداللہ ناصر لوتاہ نے "گلوبل ریل کانفرنس اور نمائش" میں شرکت کے لیے آمد پر وزیر مملکت بلال اظہر کیانی کا خیر مقدم کیا۔(جاری ہے)
بلال اظہر کیانی نے پاکستان اور یو اے ای کی حکومتوں کے درمیان طے پانے والے 'میوچل گورنمنٹ ایکسپیرینس ایکسچینج' کے ایم او یو کے تحت پاکستان سے تعاون اور مدد پر شکریہ ادا کیا۔
اس ایم او یو پر دونوں ممالک نے 16 جون 2025 کو دستخط کیے تھے جس کا مقصد حکومتی نظام کو جدید، فعال اور عوام کی خدمت کے تیز ترین نظام میں بدلنے کے تجربات سے سیکھنا ہے۔ دونوں راہنماؤں نے ایم او یو پر اب تک ہونے والے عمل درآمد اور تعاون میں پیش رفت کا بھی جائزہ لیا۔راہنماؤں نے ادارہ جاتی اصلاحات، بہتر سروس ڈیلیوری، اور جدید طرزِ حکمرانی کے لیے اپنے مشترکہ عزم کی توثیق کی اور ایم او یو کے مؤثر نفاذ کے لیے قریبی رابطے برقرار رکھنے موثر انداز میں پیش رفت پر اتفاق کیا۔ملاقات میں یو اے ای میں پاکستان کے سفیر فیصل ترمزی بھی موجود تھے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے بلال اظہر کیانی ایم او یو یو اے ای
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔