ویب ڈیسک: ٹرائل کورٹس کے ججز سے منسوب بیان پر ایمان مزاری ایڈووکیٹ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ  نے درخواست گزار کے ابتدائی دلائل سننے کے بعد درخواست کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ پہلے دیکھیں گے درخواست قابل سماعت ہے یا نہیں، ججز کو بتانا چاہیے کہ ان کی عزت نفس مجروح ہوئی ہے، کوئی اور آکر بتائے گا کہ ججز کی عزت نفس مجروح ہو رہی ہے تو تاثر کچھ اور جائے گا۔

پنجاب پولیس کے دو افسروں کے تبادلے

درخواست گزار شہری حافظ احتشام ذاتی حیثیت میں پیش ہوئے اور مؤقف اپنایا کہ فریق نے ججز کے حوالے سے ایک تاثر دیا ہے کہ ججز میں تقسیم ہے۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ کونسے ججز کی بات کر رہے ہیں؟ درخواست گزار  نے جواب دیا کہ سر ان 5 ججز میں آپ بھی شامل ہیں۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست گزار احتشام احمد پر اظہار برہمی کیا اور کہا کہ  یہیں پر رک جائیں، آگے ایک لفظ بھی نہ بولیے گا، کسی کی ذاتی رائے ہو سکتی ہے، اس عدالت میں کوئی تقسیم نہیں ہے، صرف اپنے کیس کی حد تک رہیں ہم اس عدالت میں تقسیم نہیں ہونے دیں گے۔

ویمن گرین شرٹس آئی سی سی ویمنز ورلڈ کپ ٹرافی گھر لانے کیلئے پہلا قدم کل بڑھائیں گی

درخواست گزار نے ایمان مزاری کی پریس کلب کے باہر کی گئی تقریر پڑھی، جسٹس محسن اختر کیانی  نے پوچھا کہ جو کچھ آپ پڑھ رہے ہیں اس میں توہین عدالت کیسے لگتی ہے؟ آپ اخبار پڑھتے ہیں،وی لاگ سنتے ہیں سب کو آزادی اظہارِ رائے ہے۔

درخواست گزار  نے مؤقف اختیار کیا کہ ٹرائل کورٹ کے ججز کیخلاف تائثر دیا گیا ہے کہ ان پر پریشر ہے، جسٹس محسن اختر کیانی نے پوچھا کہ ٹرائل کورٹ کے جج نے کہیں پر کوئی شکایت کی؟ درخواست گزار  نے جواب دیا کہ راولپنڈی کے ٹرائل کورٹ کے بارے میں ایمان مزاری نے بات کی ہے۔

سپریم کورٹ میں ای آفس سسٹم کا آغاز

جسٹس محسن اختر کیانی  نے ریمارکس دیے کہ وہ کمزور ججز کی نشان دہی کر رہی ہیں اس میں کیا برا ہے، اچھے جج بھی ہوتے ہیں اور نالائق جج بھی ہوتے ہیں۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ یہ توہین عدالت کا کیس کیسے ہے، درخواست گزار  نے جواب دیا کہ ضلعی عدلیہ کے ججز سے متعلق توہین آمیز گفتگو کی گئی ہے۔

جسٹس محسن اختر کیانی  نے کہا کہ آپکے کیس میں تو کوئی جج شکایت نہیں کر رہا، کسی جج نے کوئی شکایت کی ہے؟ ججز بار کونسلز میں جاکر تقریر کرتے ہیں، پہلے دیکھیں گے درخواست قابل سماعت ہے یا نہیں۔

بھارت کے سب سے امیر اداکار کا نام سامنے آگیا

عدالت نے درخواست گزار کے دلائل سننے کے بعد درخواست قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

Ansa Awais Content Writer.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست گزار توہین عدالت ایمان مزاری ٹرائل کورٹ ججز کی

پڑھیں:

10 لاکھ تک بِلا سود قرضہ کیسے حاصل کریں؟ درخواست دینے کا طریقہ انتہائی آسان

پنجاب حکومت(Punjab government) کے اپنی چھت محفوظ چھت 2026 پروگرام کے تحت 5 اور 10 لاکھ روپے کے بِلا سود قرض فراہم کیے جا رہے ہیں۔

پنجاب حکومت نے لوگوں کو اپنے موجودہ گھر کی مرمت اور توسیع کے لیے اپنی چھت، محفوظ چھت (میری چھت، محفوظ چھت) اسکیم 2026 کا آغاز کیا ہے جس کے تحت 5 سے 10 لاکھ روپے تک کے بلاسود قرضے فراہم کیے جائیں گے۔

اس حکومتی منصوبے کے تحت قرض کے دو مختلف کٹیگریز میں دیے جائیں گے۔

وہ شہری جو اپنی موجودہ چھتوں کی مرمت یا گھر کے انفراسٹرکچر کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔ انہیں 5 لاکھ روپے قرض دیا جائے گا جو انہیں 9 سال میں صرف 4،700 روپے ماہانہ قسط کی صورت ادا کرنا ہوگا۔

وہ شہری جو اپنے گھروں کی توسیع (دوسری منزل) کی تعمیر کرنا چاہتے ہیں، انہیں 10 لاکھ روپے بلاسود قرض دیا جائے گا اور اس کی مدت واپسی بھی 9 سال ہے۔ اس قرض کی ماہانہ قسط 9،300 روپے ہوگی۔

مزیدپڑھیں:ریاست مخالف ٹوئٹ کیس: پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید اور فلک جاوید کے جیل ٹرائل کےلیے دائر درخواست خارج

آن لائن اپلائی کرنے کا طریقہ:

دلچسپی رکھنے والے شہری acag.punjab.gov.pk کے ذریعے اپنی چھت، محفوظ چھت لون سکیم کے لیے آن لائن درخواست دے سکتے ہیں۔ پروگرام کے لیے رجسٹر ہونے کے لیے انہیں اپنی اسناد داخل کرنے کی ضرورت ہے۔

درخواست دہندگان ہاتھ سے لکھی درخواست بھی جمع کرا سکتے ہیں۔

وہ لوگ کمپیوٹر استعمال نہیں کر سکتے وہ اپنی قرض کی درخواستیں ڈپٹی کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنرز اور پنجاب ہاؤسنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ایجنسی کے دفاتر میں جمع کرائیں۔

متعلقہ مضامین

  • 10 لاکھ تک بِلا سود قرضہ کیسے حاصل کریں؟ درخواست دینے کا طریقہ انتہائی آسان
  • قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت
  • سہیل آفریدی کے خلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر، فریقین کو نوٹس جاری
  • وفاقی آئینی عدالت، سہیل آفریدی کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار