پہلی سہ ماہی میں برآمدات 3.83 فیصد کم، درآمدات میں 13.49 فیصد اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
ملک کی برآمدات مالی سال 26 کی پہلی سہ ماہی یعنی جولائی سے ستمبرتک کے عرصے میں 3.83 فیصد کمی کے بعد 7.60 ارب ڈالر پر آگئی ہیں۔
پاکستان ادارہ شماریات کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں برآمدات 7.91 ارب ڈالر رہی تھیں۔
اعداد و شمار کے مطابق درآمدات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے اور پہلی سہ ماہی میں یہ 13.
یہ بھی پڑھیں: پاکستان پر 19 فیصد ٹیرف کا نفاذ، پاکستانی معیشت کے لیے اچھی خبر مگر کیسے؟
ستمبر 2025 میں برآمدات 2.50 ارب ڈالر رہیں جو گزشتہ سال اسی ماہ میں 2.84 ارب ڈالر تھیں، اس طرح 11.71 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
دوسری جانب درآمدات اس ماہ 5.84 ارب ڈالر رہیں جو گزشتہ سال اسی عرصے میں 5.13 ارب ڈالر تھیں۔
ستمبر میں تجارتی خسارہ 45.83 فیصد اضافے کے ساتھ 3.34 ارب ڈالر تک جا پہنچا، جو گزشتہ سال اسی ماہ میں 2.3 ارب ڈالر تھا۔
مزید پڑھیں: پاک امریکا تجارتی معاہدہ پاکستانی معیشت کے لیے کتنا اہم ہے؟
تاہم ماہانہ بنیاد پر برآمدات میں 3.64 فیصد اضافہ ہوا اور اگست کے 2.42 ارب ڈالر کے مقابلے میں ستمبر میں برآمدات 2.50 ارب ڈالر رہیں۔
درآمدات بھی اگست کے مقابلے میں 10.53 فیصد بڑھیں، نتیجتاً ماہانہ تجارتی خسارہ 16.33 فیصد اضافے کے بعد 3.34 ارب ڈالر ہوگیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ملکی برآمدات میں کمی کی بڑی وجہ ٹیکسٹائل شعبے کی گرتی ہوئی کارکردگی ہے، جو کل برآمدات کا 60 فیصد بنتا ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان کی ترسیلات زر اور برآمدات میں اضافہ، وفاقی حکومت نے ماہانہ معاشی آؤٹ لک رپورٹ جاری کر دی
آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین عاصم انعام کے مطابق عالمی منڈی میں کپاس کی قیمتوں میں نمایاں کمی اور توانائی کے بڑھتے ہوئے اخراجات برآمدات پر منفی اثر ڈال رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال کے دوران کپاس کی قیمت 1.50 ڈالر فی پاؤنڈ سے کم ہو کر 64 سینٹس رہ گئی جس سے ٹیکسٹائل صنعت کے منافع پر دباؤ بڑھ گیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر برآمد کنندگان کو بجلی 7 سینٹس فی یونٹ کے حساب سے فراہم کی جائے تو 2 سے 3 سال میں ٹیکسٹائل کی برآمدات 25 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں۔
مزید پڑھیں: پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس میں کتنے ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے؟
دوسری جانب ادارہ شماریات کے مطابق جولائی سے اگست میں خدمات یعنی سروسز کی برآمدات 11.73 فیصد اضافے کے ساتھ 1.4 ارب ڈالر رہیں جبکہ گزشتہ سال یہ 1.25 ارب ڈالر تھیں۔
اسی عرصے میں خدمات کی درآمدات بھی 15.37 فیصد بڑھ کر 2.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ اس طرح خدمات کے شعبے میں تجارتی خسارہ 16.94 فیصد اضافے کے ساتھ 707 ملین ڈالر تک جا پہنچا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن برآمد کنندگان برآمدات پاکستان ادارہ شماریات ٹیکسٹائل درآمدات سہ ماہی عاصم انعام
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن برآمد کنندگان برا مدات پاکستان ادارہ شماریات ٹیکسٹائل درا مدات سہ ماہی جو گزشتہ سال اسی ارب ڈالر تھیں ارب ڈالر رہیں فیصد اضافے کے میں برآمدات ارب ڈالر تک کی برآمدات کے مطابق سہ ماہی
پڑھیں:
اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔
اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔