کوئٹہ ایف سی ہیڈ کوارٹر حملہ: 2 حملہ آوروں کی شناخت ہوگئی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
کوئٹہ میں منگل کے روز ایف سی ہیڈ کوارٹر پر ہونے والے حملے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
پولیس کے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ یعنی سی ٹی ڈی ذرائع کے مطابق حملے میں شامل 2 دہشت گردوں کی شناخت کر لی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں دھماکا، 10 افراد جاں بحق، 30 سے زائد زخمی
ذرائع کے مطابق ایک حملہ آور کا تعلق چاغی جبکہ دوسرے کا تعلق میزئی اڈا سے ہے، دونوں کی شناخت نادرا کے ریکارڈ کے ذریعے ممکن ہوئی۔
سی ٹی ڈی حکام کا کہنا ہے کہ دیگر حملہ آوروں کی شناخت کے لیے کے ڈی این اے سیمپل پنجاب فرانزک لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں، جن کی رپورٹ کا انتظار ہے۔
یاد رہے کہ مشرقی کوئٹہ میں واقع ایف سی ہیڈکوارٹر کے قریب خودکش دھماکے میں ابتدائی طور پر12 افراد جاں بحق اور 33 زخمی ہوئے تھے۔
مزید پڑھیں: کوئٹہ کو خطرناک دہشتگردی سے بچا لیا گیا، سی ٹی ڈی بلوچستان
دھماکے کی آواز مشرقی علاقے ماڈل ٹاؤن اور اطراف میں دور تک سنی گئی جو کہ ایک حساس علاقہ ہے۔
سیکورٹی ذرائع کے مطابق، یہ خودکش حملہ فتنۃ الہندوستان کی کارروائی تھا، حملہ آور ایف سی کی وردی میں ملبوس تھا اور اس کے ہمراہ 5 دیگر دہشت گرد بھی موجود تھے۔
پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں پتا چلا ہے کہ دھماکے میں 25 سے 30 کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا، اس کے علاوہ ہلاک حملہ آوروں سے 15 دستی بم اور بھاری اسلحہ بھی برآمد ہوا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایف سی حملہ آور شناخت کوئٹہ ہیڈ کوارٹر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایف سی حملہ ا ور کوئٹہ ہیڈ کوارٹر کے مطابق کی شناخت ایف سی
پڑھیں:
وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے حکومت نے فاٹا اور پاٹا کو حاصل مختلف ٹیکس رعایتوں میں مزید توسیع نہ دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے تحت 30 جون 2026ء کے بعد انکم ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ ختم ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے جاری مذاکرات میں آئی ایم ایف نے ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتوں میں مزید کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتیں مزید کم کرنے سے تقریباً 40 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان ہے۔
وفاقی حکومت نے 30 جون 2026ء کے بعد ٹیکس چھوٹ میں مزید توسیع نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مختلف ٹیکس استثنیٰ ختم کر کے محصولات اکٹھے کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق سابق فاٹا اور پاٹا کے لیے انکم ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گا جبکہ یکم جولائی 2026ء کے بعد فاٹا اور پاٹا کے رہائشی افراد اور کمپنیوں پر عام ٹیکس قوانین لاگو ہونے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس بھی مرحلہ وار بڑھائے جانے کا امکان ہے اس سلسلے میں سابق فاٹا اور پاٹا کی صنعتوں پر سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 12 فی صد کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ سابق قبائلی علاقوں میں درآمدی صنعتی خام مال پر بھی 12 فی صد سیلز ٹیکس عائد ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق فاٹا اور پاٹا کے لیے ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ بھی یکم جولائی 2026ء کو ختم ہونے کا امکان ہے۔
الیکٹرک گاڑیوں کے سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبل کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا۔ اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کے مطابق قبائلی علاقوں میں بجلی کی فراہمی پر سیلز ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026 تک برقرار رہے گا جبکہ مقامی طور پر تیار کردہ سائلوز پر سیلز ٹیکس چھوٹ بھی 30 جون 2026 کو ختم ہو جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔