کراچی ایئر پورٹ پر کسٹمز ڈیوٹی اور ٹیکس چوری کے گھپلے، کروڑوں کا سامان ضبط
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
—فائل فوٹو
کراچی ایئر پورٹ پر کسٹمز ڈیوٹی اور ٹیکس چوری کے گھپلے سامنے آئے ہیں جن میں ایف بی آر نے کروڑوں روپے کا سامان ضبط کر لیا۔
ایف بی آر کے مطابق سامان کو گڈز ڈیکلریشن، کسٹمز ڈیوٹی اور ٹیکس ادا کیے بغیر باہر نکالا جا رہا تھا، فراڈ میں غیر ملکی گراؤنڈ ہینڈلنگ کمپنی کے ملازمین اور درآمد کنندگان ملوث پائے گئے۔
یہ بھی پڑھیے کسٹمز کراچی کے 2 افسران کو 120 روز کے لئے معطل کر دیاایف بی آر کا کہنا ہے کہ اس فراڈ کا انکشاف قابلِ اعتماد انٹیلی جنس معلومات موصول ہونے پر ہوا، بر وقت کارروائی کے نتیجے میں 10 کروڑ 30 لاکھ روپے مالیت کی ایک کھیپ ضبط کر لی۔
ایف بی آر نے کہا ہے کہ دو کھیپیں جعلی گیٹ پاسز کی بنیاد پر دھوکہ دہی سے کلیئر کی جا چکی تھیں، کسٹمز ایئر پورٹ کراچی نے 2 ایف آئی آرز درج کرا کے کمپنی کے ملازمین کو گرفتار کر لیا۔
ایف بی آر نے بتایا ہے کہ جعلی طریقہ کار سے مجموعی طور پر 5 کھیپیں غیر قانونی طور پر باہر نکالی گئیں، ان 5 کھیپوں کی کسٹمز ڈیوٹی اور ٹیکس چوری کا کُل تخمینہ 38 کروڑ 40 لاکھ روپے ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کسٹمز ڈیوٹی اور ٹیکس ایف بی ا ر
پڑھیں:
وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ملک بھر میں جعلی دواؤں کا خاتمہ یقینی بنانےکے لیے وفاقی کابینہ نے دواؤں کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دیدی۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس حوالے سے کہا کہ ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی منظوری دے دی گئی ہے، یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی دواؤں کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلی بار ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، اس نظام کے تحت جعلی، غیرمعیاری اور نقلی دواؤں کی نشاندہی اور ان کا خاتمہ ممکن ہوگا، نظام کے نفاذ سے عام صارف بآسانی دوا کی میعاد اور قیمت کی مستند معلومات لے سکےگا۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی، نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں، یہ اہم فیصلہ دواوں کی سپلائی چین کو محفوظ اور معیاری بنانے کیلئے کیا ہے۔
مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا پاکستان میں دواؤں کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی دواؤں کے خلاف مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی، پاکستان خطے میں جدید ٹیکنالوجی اپنانے والا نمایاں ملک بن کر سامنے آئے گا، اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گا۔
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
مزید :