Express News:
2026-07-24@04:39:17 GMT

سیلاب اور مستقبل کے لیے پلاننگ

اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT

آئی ایم ایف نے سیلاب سے نقصانات کی حتمی رپورٹ جلد مانگ لی ہے۔ دوسری طرف پنجاب نے اپنے ہی وسائل سے متاثرین کی امداد کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ اس سیلاب میں مالی نقصان ہی نہیں ہوا بلکہ وہ نقصانات ہوئے ہیں جن کا تعلق دل کی گہرائیوں سے ہے، جذبات سے احساسات سے ہے۔

اس شخص سے پوچھیں اس کا کیا نقصان ہوا ہے۔ وہ اپنے نقصانات کی حتمی رپورٹ جلد از جلد یعنی ایک دو دنوں میں فوری طور پر حکومت کے علم میں لے کر آئے تاکہ اس کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے۔ اب وہ کیا حساب جلد بازی میں دے سکتا ہے، اس کے جتنے بھی جانور تھے 10 یا 20 یا 30 سب کے سب پانی میں چلے گئے یا کسی کنارے کسی کے کھیت میں کیچڑ میں لت پت بے جان پڑے ہیں۔ اس نے تو اپنے مال مویشیوں کا حساب کتاب کبھی لگایا ہی نہیں تھا۔ اسے کیا معلوم کتنا نقصان ہو چکا ہے۔ یہاں تو اس کی دنیا ہی لٹ گئی ہے۔ اس کے لیے دودھ کا ایک ایک قطرہ نچوڑ لیا گیا ہے۔

اس کے بکرے جوکہ صحن میں اٹکھیلیاں کرتے رہتے تھے جنھیں دیکھ کر وہ اور اس کے بچے بہت خوش ہوا کرتے تھے وہ ان کے لیے مفت انٹرٹینمنٹ کا ذریعہ بن چکے تھے، لیکن اب وہ ان کے نقصانات کا اندازہ کیسے لگائے۔وزیر اعظم پاکستان کہہ چکے ہیں کہ 50 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔ ابھی اس میں سندھ میں آنے والے سیلاب کے نقصانات کا تذکرہ نہیں ہے جوکہ آیندہ ہفتے تک ہی صورت حال واضح ہوکر رہے گی۔ سندھ کے کئی اضلاع شدید متاثر ہو چکے ہیں۔ اہل کراچی بھی ان بارشوں سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔ ان کے ہونے والے نقصانات کا صحیح اندازہ نہیں لگا سکتے۔

سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر کہیں کہیں گڑھے پڑ چکے ہیں جن میں بائیک ایک دفعہ ان گڑھوں کی سیر کر لے تو بائیک پکڑ کر اٹھانا ضروری ہو جاتی ہے۔ آئی ایم ایف مشن سے ہونے والے جاری مذاکرات دوسری ششماہی سے متعلق جائزہ ہے۔ ان مذاکرات میں پاکستانی حکام نے وفد کو معاشی ترقی، افراط زر، ترسیلات زر، درآمدات برآمدات اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات پر بریفنگ دے دی۔ آئی ایم ایف وفد کی آمد کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ پاکستان سے اور معیشت سے متعلق تمام تر تفصیلات حاصل کر لی جائیں جس سے ملکی معیشت کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس سے قبل 2022 میں سندھ میں آنے والے سیلاب کے نقصانات کا جائزہ لیا گیا تھا۔

اگرچہ کسانوں کا سندھ کے گاؤں دیہات کے باسیوں کا بے انتہا نقصان ہوا، لیکن اس کا عشر عشیر نقصان کا سامنا بھی آئی ایم ایف اور عالمی امداد سے حاصل نہ ہو سکا۔ اس مرحلے پر حکومت سندھ اور وزیر اعلیٰ سندھ، یہاں کی انتظامیہ اور پوری کابینہ مستعد ہو کر سیلابی پانی میں اترتے رہے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور دیگر رہنما متاثرہ افراد کے شانہ بشانہ جا کر کھڑے ہوگئے۔ بہت سی تنظیموں نے بھی اپنا بھرپور کردار ادا کیا جوکہ بروقت تھا اور اس کی ضرورت بھی تھی جسے پورا کیا گیا۔ جب کہ عالمی امداد قلیل مقدار میں آئی مگر انتہائی تاخیر کے ساتھ، کیوں کہ ان کا سسٹم ایسا ہے کہ تاخیر کا ہونا لازمی ہوتا ہے۔

آئی ایم ایف کے حکام جلدازجلد نقصانات کا اندازہ طلب کر لیں گے، لیکن اس کے ازالے کے لیے ان کا سسٹم بہت زیادہ وقت طلب ہو سکتا ہے۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ متاثرہ کسانوں کے لیے فوری مالی امداد اور فصل کی بحالی کے لیے سبسڈی فراہم کی جائے۔ سڑکیں، پل اور پانی کی نکاسی کے نظام کی فوری مرمت کی جائے۔ اگرچہ حکومت پنجاب اور انتظامیہ اس سلسلے میں دن رات کوشاں ہے لیکن پھر بھی مختلف ادارے جو امداد کرتے ہیں، مخیر حضرات، مقامی اور پورے پاکستان کی کمیونٹی مل کر ان کے وسیع تر ہونے والے نقصانات کا تھوڑا بہت ازالہ کر سکتے ہیں۔

حالیہ سیلاب نے پنجاب میں تباہی مچانے کے بعد صوبہ سندھ کو وسیع پیمانے پر اپنی لپیٹ میںلے لیا، اس میں اب نقصان صرف مال مویشی، مال و اسباب، زمین، مکان کا ہی نہیں ہوا بلکہ انسانی زندگی، سماجی ڈھانچے، لوگوں کی معیشت کے ساتھ پوری دیہی معیشت کو زمیں بوس کر چکا ہے جس کے لیے حکومت اب وسیع اور مستقل بنیادوں پر کام کرے گی۔ اس سلسلے میں آئی ایم ایف کی بھرپور معاونت بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔ فی الحال حکومت اور دیگر ادارے اور کمیونٹی کے مختلف افراد اور گروپ مل کر ہی ان کسانوں کو فوری امداد فراہم کر سکتے ہیں تاکہ یہ اپنے پیروں پر کھڑے ہو جائیں اور مستقل سرمایہ کاری کی جائے تاکہ آیندہ چل کر مستقل بنیادوں پر مضبوطی سے قائم رہیں۔

اب یہ معاملہ موسمیاتی تبدیلی سے جڑ چکا ہے اور موسمیاتی تبدیلی کارخانوں کے کالے دھوؤں، چمنیوں سے نکلنے والے آگ کے شعلے، فضا میں پھیلنے والے زہریلے مواد، قدرت کی حدوں کو توڑنے والے ممالک، ان سب کے ساتھ موسمیاتی تبدیلی نے اتنا گہرا تعلق قائم کر لیا ہے۔ وزیر اعظم کہہ چکے ہیں کہ صنعتی ممالک کا ہی قصور ہے۔ ہمارا شیئر نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ پڑوسی ملک بھارت ایک بہت بڑا صنعتی اور کارخانوں سے لدا ہوا ملک ہے اور زرعی فصل اٹھانے والا ملک ہے۔ وہاں سے آنے والا اسموگ ہماری زندگی کی رفتار کو نکیل ڈال دیتا ہے۔

سردیوں میں ہر طرف دھند ہی دھند چھائی رہتی ہے۔ آسمان پر پہنچنے والا زہریلا مواد جب اپنا انتقام لیتا ہے تو بھارت بارش کے پانی کے ذخیرے کو اپنے ملک میں محفوظ رکھنے کے بجائے ڈیم میں جمع کرکے ہماری طرف چھوڑ دیتا ہے۔ یوں ہمارے دیہات اور بستیوں کی سیلابی لہریں مزید کئی کئی گز اونچی ہو جاتی ہیں۔ لہٰذا اب اس کا مستقل حل تلاش کیا جانا ضروری ہے۔ نقصانات کا اندازہ لگانا ہے تو آج کا بھی لگائیں اور آیندہ کے لیے تخمینہ لگانا ضروری ہے تاکہ اس سے بچنے کے لیے ابھی سے اقدامات کیے جا سکیں۔ لہٰذا ابھی سے ہی سیلاب سے متعلق مستقبل کی پلاننگ کرلی جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے نقصانات کا آئی ایم ایف کا اندازہ ہونے والے چکے ہیں کے لیے

پڑھیں:

’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی

پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔

طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘

طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔

سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔

دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔
 

متعلقہ مضامین

  • اسکردو: سیلفی بناتے کچورا جھیل میں گرے موبائل کو نکالتے ہوئے نوجوان گر کر جاں بحق
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن