مظفر آباد (نوائے وقت رپورٹ) رکن حکومتی مذاکراتی کمیٹی اور وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ معاہدے پر اصولی اتفاق رائے کر لیا ہے۔ بہت جلد معاہدے پر باضابطہ دستخط بھی ہو جائیں گے۔ بڑے پیمانے پر خونریزی اور بدامنی چاہنے والے ناکام ہو گئے۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی تجاویز کو ہم نے فوراً منظور کر لیا۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا یہ جیت پاکستان اور آزاد کشمیر کے عوام اور جمہوریت کی ہے۔ امور کشمیر کے وزیر کی سربراہی میں ہر 15 روز میں کمیٹی کا اجلاس ہو گا۔ وزیر امور کشمیر کی نگرانی میں ایک مستقل کمیٹی بنائی ہے۔ اجلاس میں مطالبات پر عملدرآمد کا جائزہ لیا جائے گا۔ معاہدے کے مسودے پر دونوں اطراف سے غور کیا جا رہا ہے۔ مہاجرین کی نشستوں سے متعلق ایک آئینی ماہرین کی کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ آئینی ماہرین کی کمیٹی تمام پہلوؤں کا جائزہ لیکر فیصلہ کرے گی۔ کمیٹی کے جائزے کے بعد جو فیصلہ کیا جائے گا وہ سب کو قبول ہو گا۔ یہ آئینی معاملہ ہے اس میں جلد بازی نہیں کی جائے گی۔ حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے رکن طارق فضل چودھری نے تصدیق کی ہے کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی آزاد جموں و کشمیر سے معاملات طے پا گئے ہیں۔ جلد حتمی معاہدے پر دستخط متوقع ہیں۔ مذاکرات کا آخری دور جاری ہے۔ عوامی مفادات اور امن ہماری اولین ترجیح ہے۔ میڈیا کے مطابق حکومت کی طرف سے مذاکرات میں سینیٹر رانا ثناء اللہ، احسن اقبال اور سردار یوسف، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، قمر زمان کائرہ اور انجینئر امیر مقام شریک ہیں جبکہ سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف، سابق صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان بھی مذاکرات کا حصہ ہیں۔ آزاد کشمیر کی حکومتی مذاکراتی کمیٹی بھی اجلاس میں شریک ہے جبکہ شوکت نواز میر، راجہ امجد ایڈووکیٹ اور انجم زمان عوامی ایکشن کمیٹی کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ قبل ازیں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کی 12 نشستوں کے معاملے پر بہت سوچ سمجھ کر بات کرنی چاہئے۔ ان 12 نشستوں کے ووٹرز کا تعلق کشمیر سے ہے۔ ان افراد کا کشمیر سے تعلق اس طرح ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اس مقصد کیلئے آئینی پیکج اور سیاسی اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ آزاد کشمیر کے معاملے پر وہاں کی سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ لوگوں کو اعتراض ہو سکتا ہے کہ ایسے کام عجلت میں کیوں کئے جا رہے ہیں۔ ووٹ کا حق بنیادی حق ہے ایسے حقوق پر بھرپور بحث ہونی چاہئے۔ جو کچھ ہو رہا ہے یہ ہمارے کشمیر کاز کو نقصان پہنچائے گی۔ جب سیاست کی بات ہونی ہے تو قانونی‘ آئینی نقاط پر ٹھنڈے دل سے بات کرنی چاہئے۔ ہمیں آئینی اور قانونی نقاط پر سوچ سمجھ کر بات کرنی چاہئے اور حل تلاش کرنا چاہئے۔ یہ لوگ بھارت کی غلامی سے آزادی حاصل کرنے اور پاکستان کی خاطر بے گھر ہوئے۔ ان لوگوں کو پاکستان نے مہمانوں کی طرح آباد کیا۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: ایکشن کمیٹی معاہدے پر

پڑھیں:

اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔

جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔

انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔

یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔

متعلقہ مضامین

  • اب وقت آگیا، دونوں ممالک کسی نہ کسی شکل میں ایک معاہدے تک پہنچ جائیں، ٹرمپ کا ایران کو پیغام
  • واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار
  • مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی