شکارپور میں تیز رفتار ٹرک سڑک کنارے سوئے مزدوروں پر چڑھ دوڑا، 7 جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
قومی شاہراہ بائی پاس پر تیز رفتار ٹرک نے سڑک کنارے سوئے ہوئے افراد کو روند ڈالا، جس کے نتیجے میں 7 افراد موقع پر جاں بحق اور 6 زخمی ہو گئے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ افسوس ناک حادثہ اُس وقت پیش آیا جب سبزی سے بھرا ٹرک اچانک بے قابو ہو کر سڑک کنارے سوئے مزدوروں پر چڑھ گیا۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں اور پولیس پہنچی، جہاں سے جاں بحق افراد کی لاشیں اور زخمیوں کو فوری طور پر سول اسپتال شکارپور منتقل کر دیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد دی جا رہی ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق حادثہ تیز رفتاری کے باعث پیش آیا۔ ٹرک کو تحویل میں لے لیا گیا ہے اور ڈرائیور کی تلاش جاری ہے۔ پولیس نے بتایا کہ مکمل تحقیقات کے بعد ہی حادثے کی وجوہات پر حتمی رائے دی جا سکے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔