شکارپور: تیز رفتار گاڑی نے سوئے افراد کو کچل دیا، 5 بچوں سمیت 8 جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
ویب ڈیسک: شکارپور میں مزدا گاڑی نے سوئے ہوئے افراد کو کچل دیا جس کے باعث 5 بچوں سمیت 8 افراد جاں بحق جبکہ 5 شدید زخمی ہوگئے۔
آلو اور پیاز سے بھری ہوئی مزدا گاڑی تیز رفتاری کے باعث بجلی کے پول سے ٹکرا کر سڑک کنارے سوئے افراد پر چڑھ دوڑی، دو بچوں سمیت 8 افراد موقع پر جاں بحق ہوگئے، حادثے کی اطلاع پر پولیس کے اعلیٰ حکام اور بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی۔
شکارپور پولیس کے مطابق کندن چورنگی میں پیش آنے والا یہ حادثہ کئی گھروں کے چراغ بجھا گیا، جاں بحق ہونے والوں میں 38 سالہ گوبھی، 40 سالہ رابعہ، 10 سالہ ریما، 8 سالہ رشیدہ، 8 سالہ سمعیہ، 12 سالہ انعام اللہ، 6 سالہ پیاری اور 17 سالہ منی شامل ہیں۔
چنگان کا اوشان ایکس 7 کی قیمت میں محدود مدت کیلئے بڑی کمی کا اعلان
پولیس حکام کے مطابق زخمیوں میں سلیمان خمیسو، اویس اور وجے شامل ہے، افسوسناک حادثے کے بعد علاقے میں سوگ کا سماں ہے، ہر آنکھ اشکبار ہے، پولیس کے مطابق حادثے کا ذمہ دار مزدا ڈرائیور موقع سے فرار ہوگیا۔
ریسکیو اداروں نے لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا، زخمیوں کی حالت بھی تشویشناک بتائی گئی ہے، پولیس نے مزدا گاڑی کو تحویل میں لے لیکر حادثے کی تحقیقات شروع کردی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔