بغیر لائسنس ڈرائیونگ پر 50، لاپرواہی پر 25 ہزار روپے جرمانہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
سندھ حکومت نے ٹریفک خلاف ورزیوں پر بھاری جرمانے اور ڈی میرٹ پوائنٹس سسٹم نافذ کردیا۔
نیا نظام موٹر وہیکلز آرڈیننس 1965 کی شق 121 اے کے تحت بارہویں شیڈول میں ترمیم سے نافذ کیا گیا ۔
صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ اوور اسپیڈنگ، سنگل توڑنے اور غلط سمت ڈرائیونگ پر سخت کارروائی ہوگی، نئی فہرست میں جرمانے گاڑیوں کی اقسام کے حساب سے مقرر کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اوور اسپیڈنگ پر 8 ڈی میرٹ پوائنٹس بھی شامل ہوں گے، بغیر لائسنس ڈرائیونگ پر 50 ہزار جرمانہ اور 6 ڈی میرٹ پوائنٹس لگیں گے، لاپرواہی سے گاڑی چلانے پر 25 ہزار جرمانہ اور 8 پوائنٹس مقرر کیے گئے ہیں۔
پی پی رہنما نے کہا کہ ون وہیلنگ، بغیر ہیلمٹ، غلط لین، دھندلے شیشے اور چھت پر سواریاں بٹھانے پر بھی سزا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ٹریفک مینجمنٹ کو جدید بنانے کے لیے ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم لایا جارہا ہے، ڈی میرٹ پوائنٹس سے بار بار خلاف ورزی کرنے والوں کا ریکارڈ رکھا جاسکے گا۔
شرجیل میمن نے کہا کہ حکومت کا مقصد صرف جرمانے نہیں بلکہ جانوں کا تحفظ ہے، سگنل توڑنا، ون وہیلنگ اور اوور اسپیڈنگ جان لیوا حرکات ہیں، بار بار خلاف ورزی پر لائسنس معطل یا منسوخ کیا جاسکے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ڈی میرٹ پوائنٹس نے کہا کہ
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔