پنجاب حکومت کا جنگلات ایکٹ 1927 میں ترمیم کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
سٹی42: پنجاب حکومت نے جنگلات ایکٹ 1927 میں اہم ترامیم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے جس کا مقصد قومی ترقیاتی منصوبوں اور اسٹریٹجک اہمیت کے حامل پروجیکٹس کے لیے جنگلاتی زمین کے استعمال کو ممکن بنانا ہے۔
ذرائع کے مطابق ترمیمی سفارشات صوبائی کابینہ کو ارسال کر دی گئی ہیں اور منظوری کے بعد یہ مسودہ پنجاب اسمبلی سے منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ترمیمی بل کے تحت محفوظ اور ریزرو جنگلاتی علاقوں کو قومی اہمیت کے اسٹریٹجک منصوبوں کے لیے مختص کرنے کی اجازت دی جائے گی تاہم اس عمل کو مخصوص قانونی شرائط سے مشروط کیا جائے گا تاکہ ماحولیاتی توازن اور جنگلات کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
چاول کی قیمت میں نمایاں اضافہ
نئی ترامیم کے بعد حکومت کو جنگلاتی زمین کو مخصوص قومی منصوبوں کے لیے استعمال کرنے کا قانونی اختیار حاصل ہو جائے گا، جو پہلے موجود نہیں تھا۔اس حوالے سے 2016 کی ایک ترمیم کے تحت سیکشن 27 میں نئی ذیلی شقیں بھی شامل کی گئی تھیں۔ اس سے قبل بھی 1962 اور 2010 میں جنگلات ایکٹ میں اہم ترامیم کی جا چکی ہیں۔
حکومتی ترجمان کے مطابق اس ترمیمی مسودے کا مقصد جنگلات کے تحفظ اور قومی ترقی کے تقاضوں کے درمیان توازن قائم رکھنا ہے تاکہ ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ انفراسٹرکچر کی ترقی میں بھی پیش رفت ہو سکے۔
4 گھٹنے طویل اجلاس، وزیراعلیٰ مریم نواز نے8محکموں سے بریفنگ لی،اہم فیصلے
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔