عالیہ بھٹ اپنی ننھی سی بیٹی کے لیے ای میل کیوں لکھتی ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
عالیہ بھٹ نے انکشاف کیا ہے کہ وہ اپنی بیٹی راہا کے لیے باقاعدگی سے ای میلز لکھتی ہیں، جو وہ اسے اس وقت تحفے میں دیں گی جب راہا 18 سال کی ہوجائے گی۔
یہ بھی پڑھیں:رنبیر کپور سے شادی کا فیصلہ کیوں کیا، عالیہ بھٹ نے بتا دیا
ریئلٹی شو ’ٹو مچ وِد کاجول اینڈ ٹوئنکل‘ میں گفتگو کے دوران کاجول نے عالیہ سے پوچھا کہ کیا یہ خیال انہیں فلم ’کچھ کچھ ہوتا ہے‘ سے ملا؟
عالیہ نے ہنستے ہوئے کہا، نہیں، کسی نے بتایا تھا کہ ایک ماں اپنی بیٹی کے لیے ایسا کرتی تھی، تو میں نے سوچا کیوں نہ میں بھی یہ کروں، یہ روزانہ کی ای میل نہیں ہوتی، بلکہ مہینے میں ایک ای میل جس میں میں راہا کے بارے میں چھوٹی چھوٹی باتیں لکھتی ہوں، جیسے وہ کس چیز سے خوش ہوئی یا میں اس کے لیے کیا خواہش رکھتی ہوں۔
عالیہ کے مطابق میں چاہتی ہوں جب وہ 18 سال کی ہو تو یہ سب پڑھ کر جانے کہ اس کی ماں اس کے بارے میں کیسا محسوس کرتی تھی، ہو سکتا ہے وہ 12 یا 13 سال کی عمر میں ہی یہ مانگ لے۔
یہ بھی پڑھیں:عالیہ بھٹ فٹ رہنے کے لیے کونسے دیسی کھانے کھاتی ہیں؟
اداکارہ نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے یہ ای میلز راہا کی پیدائش کے دن سے لکھنا شروع کیں۔
اپنی شادی کے حوالے سے عالیہ بھٹ نے بتایا کہ انہوں نے اور رنبیر کپور نے گھر پر چھوٹی تقریب میں شادی کرنے کا فیصلہ کیوں کیا۔
ان کے بقول ہم دونوں بہت گھریلو مزاج کے لوگ ہیں اور زیادہ سماجی تقریبات میں نہیں جاتے، ہم چاہتے تھے کہ ہماری شادی میں صرف وہ لوگ ہوں جو واقعی قریب ہیں، ہم نے سوچا کہ بڑی تقریب کے بجائے چھٹیوں میں ان جگہوں پر جائیں گے جنہیں شادی کے لیے سوچا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ای میل ٹوینکل کہنہ رنبئر کپور روہا عالیہ بھٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ای میل رنبئر کپور روہا عالیہ بھٹ عالیہ بھٹ کے لیے
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔