بالاج قتل کیس کے مرکزی ملزم طیفی بٹ کی ڈرامائی انداز میں گرفتاری کی اندرونی کہانی سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
بالاج قتل کیس کے مرکزی ملزم طیفی بٹ کی گرفتاری کی اندرونی کہانی سامنے آگئی جب کہ طیفی بٹ کو دبئی میں ایک دعوت کے دوران ڈرامائی انداز میں گرفتار کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق پولیس نے کہا کہ محکمہ پولیس کے ایکسٹراڈیشن سیل کے ڈی ایس پی خالد وریا دبئی میں گوجرانوالہ کے 2 اشتہاری ملزمان کی گرفتاری کے لیے موجود تھے۔
اشتہاری ملزمان کی گرفتاری کے لیے دبئی پولیس کے ساتھ خالد وریا نے ایک فلیٹ میں کارروائی کی، کارروائی کے دوران اسی فلیٹ میں طیفی بٹ بھی دعوت پر موجود تھا۔
یہ بھی پڑھیں: امیر بالاج ٹیپو قتل کیس میں اہم پیشرفت، مرکزی ملزم دبئی سے گرفتار
پولیس نے کہا کہ ڈی ایس پی خالد وریا نے طیفی بٹ کو پہچان کر اس کی بھی گرفتاری کا پراسس شروع کر دیا۔
ذرائع نے کہا کہ طیفی بٹ ابھی دبئی پولیس کی حراست میں ہے، پولیس کے مطابق اس کی گرفتاری کے لیے لاہور پولیس کی جانب سے ریڈ وارنٹ بھی جاری کروائے گئے تھے۔
ذرائع نے کہا کہ ریڈ وارنٹ سے گرفتاری اور پاکستان روانگی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے، طیفی بٹ کو ریڈ وارنٹ کا پروسیس مکمل ہونے پر لاہور ائیرپورٹ لایا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق طیفی بٹ بالاج قتل کے فوری بعد اسلام آباد سے گلاسکو روانہ ہوا تھا،
لندن کا ویزہ ختم ہونے پر طیفی بٹ لندن کا ویزہ رینیو کروانے کے لیے دبئی آیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کی گرفتاری نے کہا کہ طیفی بٹ کے لیے
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔