امیربالاج قتل کیس میں بڑی پیشرفت؛ مرکزی ملزم طیفی بٹ کو دبئی سے گرفتار کرلیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
دبئی/لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 اکتوبر 2025ء ) ٹیپو ٹرکاں والا کے بیٹے امیربالاج قتل کیس میں بڑی پیشرفت ہوئی ہے جہاں پولیس نے مرکزی ملزم طیفی بٹ کو دبئی سے گرفتار کرلیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق امیر بالاج قتل کیس کے مرکزی ملزم خواجہ تعریف گلشن عرف طیفی بٹ کو انٹرپول کی مدد سے دبئی سے گرفتار کیا گیا، ملزم واردات کے بعد بیرون ملک فرار ہوگیا تھا، امیر بالاج ٹیپو قتل کیس میں مطلوب ملزم طیفی بٹ کو اشتہاری ملزم قرار دیا گیا تھا۔
بتایا گیا ہے کہ مرکزی ملزم کی گرفتاری کے لیے پولیس نے گزشتہ سال وزارت داخلہ سے رابطہ کیا، وزارت داخلہ کی منظوری کے بعد طیفی بٹ کے ریڈ وارنٹ حاصل کیے گئے اور ملزم کی گرفتاری کیلئے انٹرپول سے رابطہ کیا گیا اور اب پنجاب پولیس کی ٹیم نے ملزم کو انٹرپول کی مدد سے گرفتار کرلیا ہے، خواجہ تعریف گلشن عرف طیفی بٹ کو جلد پاکستان منتقل کیا جائے گا۔(جاری ہے)
دوسری طرف امیر بالاج ٹیپو قتل کیس میں جے آئی ٹی خواجہ عقین عرف گوگی بٹ کو بھی قصور وار قرار دے چکی ہے، اس حوالے سے جے آئی ٹی رپورٹ میں کہا گیا کہ گوگی بٹ نے امیر بالاج کے قتل کی منصوبہ بندی کی اور اس سلسلے میں مرکزی ملزم طیفی بٹ کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہا، گوگی بٹ ماضی میں بھی ٹیپو خاندان کے قتل کیسز میں نامزد رہا ہے اور امیر بالاج کے قتل کے بعد وہ موقع واردات سے فرار ہوگیا تھا۔ بتاتے چلیں کہ امیر بالاج ٹیپو کو اس وقت قتل کیا گیا جب وہ لاہور کے علاقہ ٹھوکر نیاز بیگ کے قریب ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں سابق ڈی ایس پی اکبر اقبال کے بیٹے کی شادی کی تقریب میں شریک تھا، تقریب کے دوران وہاں موجود ایک حملہ آور نے فائرنگ کی جس سے امیر بالاج ٹیپو سمیت 3 افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم امیر بالاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے امیر بالاج ٹیپو ملزم طیفی بٹ قتل کیس میں طیفی بٹ کو سے گرفتار کیا گیا قتل کی
پڑھیں:
اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔
اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔