امیربالاج ٹیپوقتل کیس،مرکزی ملزم خواجہ تعریف گلشن طیفی بٹ انٹرپول کی مدد سے دبئی سے گرفتار، جلد پاکستان منتقل کیا جائے گا، ذرائع
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
لاہور، دبئی (ویب ڈیسک) ٹیپو ٹرکاں والے کے بیٹے امیر بالاج ٹیپو قتل کیس میں نامزد مرکزی اشتہاری ملزم خواجہ تعریف گلشن عرف طیفی بٹ کو دبئی سے گرفتار کرلیا گیا ہے، یہ گرفتاری انٹرپول کی مدد سے عمل میں آئی، بتایاگیا ہے کہ پنجاب پولیس نے انٹرپول کی مدد سےملزم کو گرفتار کیا اور قانونی کارروائی کی تکمیل کے بعد جلد پاکستان منتقل کیاجائے گا۔
دنیانیوز کے مطابق قتل کیس کے بعد طیفی بٹ ملک سے فرار ہو کر متحدہ عرب امارات (دبئی) میں روپوش ہوگیا تھا، جس کے بعد پنجاب پولیس نے انٹرپول کے ذریعے اس کی گرفتاری کیلئے ریڈ وارنٹ جاری کئے تھے۔ پولیس کا مؤقف دیتے ہوئے کہنا ہے کہ طیفی بٹ کی گرفتاری اس کیس میں ایک بڑی پیشرفت ہے، اسے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور امیر بالاج کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔
یاد رہے کہامیر بالاج ٹیپو کو 18 فروری 2024 کو شادی کی تقریب میں فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔لاہور پولیس کے مطابق ٹیپو ٹرکاں والا کا بیٹا امیر بالاج ٹیپو ٹھوکر نیاز بیگ کے قریب ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں سابق ڈی ایس پی اکبر اقبال بلا کے بیٹے کی شادی کی تقریب میں شریک تھا۔شادی کی تقریب کے دوران وہاں موجود ایک حملہ آور نے فائرنگ کردی تھی، جس سے امیر بالاج ٹیپو سمیت 3 افراد زخمی ہوگئے تھے، جنہیں ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔پولیس کے مطابق امیر بالاج ٹیپو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا تھا، جب کہ مقتول امیر بالاج ٹیپوکے محافظوں کی فائرنگ سے حملہ آور بھی موقع پر مارا گیا تھا۔
خاتون نے اپنے پانچویں شوہر کو انسولین ڈوز دے کر قتل کردیا
اگست 2024 میں ٹیپو ٹرکاں والے کے بیٹے امیر بالاج ٹیپو کے قتل کیس کا مرکزی ملزم احسن شاہ مبینہ مقابلے میں ہلاک ہو گیا تھا۔ڈی ایس پی آرگنائزڈ کرائم یونٹ نے بتایا تھا کہ ملزم احسن شاہ اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے زخمی ہوا تھا، جسے ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ جانبر نہیں ہو سکا تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ احسن شاہ کو نشاندہی کے لیے لے جایا جا رہا تھا کہ اس کے بھائی نے نامعلوم ساتھیوں کے ہمراہ اسے چھڑوانے کے لیے حملہ کر دیا، اس دوران مبینہ مقابلے کے دوران احسن شاہ زخمی ہوا اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گیا۔
حماس نے ٹرمپ کے امن منصوبے سے اتفاق کرلیا، بعض شقوں پر مزید مذاکرات کی تجویز
ادھر ڈان نیوز کے مطابق ستمبر 2025 میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ گوگی بٹ نےامیربالاج ٹیپو کو قتل کروانے کے لیے منصوبہ بندی کی تھی۔جے آئی ٹی ذرائع کے مطابق خواجہ عقیل عرف گوگی بٹ امیربالاج قتل کیس کے مرکزی ملزم طیفی بٹ سے رابطے میں رہا تھا، گوگی بٹ ٹیپو خاندان کے تمام سابقہ قتل کیس میں بھی نامزد ملزم رہا ہے، طیفی بٹ کا کزن گوگی بٹ پہلے ہی عبوری ضمانت کروا کر منظرعام پر آچکا ہے۔
ذرائع کے مطابق جے آئی ٹی آئندہ پیشی پر گوگی بٹ کی ضمانت خارج کروانے کی استدعا کرے گی۔واضح رہے کہ امیر بالاج کے قتل کے بعد ملزم خواجہ عقیل عرف گوگی بٹ فرار ہو گیا تھا، بعد ازاں ملزم نے ضمانت حاصل کرلی تھی اور 15 ستمبر تک عبوری ضمانت پر ہے جبکہ ملزم طیفی بٹ تاحال اشتہاری ملزم تھا، جسے آج دبئی سے حراست میں لیکر پاکستان منتقل کرنے پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔
قائم مقام صدر سید یوسف رضا گیلانی سے برطانیہ کے ہاؤ س آف لارڈز کے رکن کی ملاقات
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: امیر بالاج ٹیپو منتقل کیا کے مطابق احسن شاہ قتل کیس طیفی بٹ گیا تھا گوگی بٹ کے بعد
پڑھیں:
بدقسمت خواجہ سرا۔۔۔؟
میں مشہور ٹرانس جینڈر تلسی بٹ کی پوڈ کاسٹ دیکھ رہی تھی۔ یہ بڑا مظلوم طبقہ ہے جسے ہر جگہ پھٹکار ملتی ہے، دیگر خواجہ سراؤں کی طرح تلسی بھی کم عمری ہی میں گھر سے نکال دی گئی تھی، نو سال کی ننھی سی عمر میں اس کے والد نے اسے کسی خواجہ سرا کے سپرد کر دیا تھا، پھر وہ گیارہ سال کی عمر میں اپنے گھر واپس آئی تو لوگوں نے اس کے ساتھ زیادتیاں کیں، تلسی کے دو بھائی اور چار بہنیں ہیں، تلسی نے بہت پیسہ کمایا، وہ ایک نامور اور مشہور اسٹیج ڈانسر ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ خواجہ سراؤں کو رشتے خریدنے پڑتے ہیں، ورنہ ان کا سگا خون انھیں منہ نہیں لگاتا۔ پیدا کرنے والی ماں اجنبی بن جاتی ہے، تلسی نے بھی اپنے بھائیوں کو کاروبار کرایا، بہنوں کی شادیاں کیں، لیکن اس کی زخمی روح کو کوئی نہ سمجھ سکا۔ مجھے ٹرانس جینڈر سے ہمیشہ سے ہمدردی ہے، یہ راندۂ درگاہ لوگ بڑی اذیت بھری زندگی گزارتے ہیں، انھیں بھی خدا نے ہی پیدا کیا ہے، ان کی شخصیت میں جو نقص ہے وہ خدا کی طرف سے ہے، مغربی ممالک اور امریکا میں ان سے کوئی نفرت نہیں کرتا، بلکہ انھیں باعزت پیشوں سے منسلک کیا جاتا ہے۔
وہ میک اپ آرٹسٹ بنتے ہیں، فیشن ڈیزائنر بنتے ہیں اور عزت کی روٹی کھاتے ہیں جب کہ انڈیا، پاکستان اور بنگلہ دیش میں انھیں نہایت کم تر سمجھا جاتا ہے، انھیں نہ دفتروں میں ملازمت ملتی ہے نہ کہیں روزگار ملتا ہے، اسی لیے شام ہوتے ہی ان کے جھنڈ کے جھنڈ ٹریفک سگنلوں پہ بھیک مانگتے نظر آتے ہیں، جو خوبصورت ہوتے ہیں وہ جسم فروشی بھی کرتے ہیں کہ پیٹ تو کسی نہ کسی طرح بھرنا ہی ہوتا ہے، ان کے دل پر لگے زخم کسی کو نظر نہیں آتے، انڈیا میں ٹرانس جینڈر پر کئی فلمیں بنی ہیں، جیسے ’’تمنا‘‘ جس میں پاریش راول نے خواجہ سرا کا رول کیا ہے اور پوجا بھٹ نے ایک لاوارث لڑکی کا جس کا باپ صرف لڑکوں کو جینے کا حق دیتا ہے، لڑکیوں کو نہیں۔ اس لیے اس کی بیوی ایک نوزائیدہ بچی کو کچرے دان میں ڈال دیتی ہے، لیکن پاریش راول اسے سینے سے لگا لیتا ہے اور اس کی اچھی پرورش کرتا ہے۔
دوسری فلم جو ہمیں پسند آئی تھی وہ تھی ’’شبنم‘‘، جو بھارت کی پہلی خواجہ سرا سیاست دان ’’ شبنم ماسی‘‘ کی حقیقی زندگی پر بنائی گئی تھی اور شبنم کا رول کیا تھا آشتوس رانا نے، ان کے علاوہ ’’لکشمی‘‘ ،’’ چندی گڑھ کرے عاشقی‘‘، ’’سنگھرش‘‘، ’’مرڈر2‘‘ سرفہرست ہیں۔ ایک اور فلم مجھے بہت پسند آئی تھی، وہ تھی ’’درمیان‘‘ جس میں کرن کھیر نے زینت بیگم کا لازوال کردار ادا کیا تھا اور اس کا بیٹا جوکہ خواجہ سرا تھا اس کا رول عارف ذکریا نے ادا کیا تھا اور بہت خوب کیا تھا، وہ اپنی ماں کا میک اپ مین بن جاتا ہے، ایک اور فلم جو مجھے اور میرے شریک حیات کو بہت پسند آئی تھی، وہ تھی ’’سرداری بیگم‘‘ اس فلم میں بھی سرداری بیگم کا کردار کرن کھیر نے نبھایا تھا۔ پہلے انڈیا میں ہر سنیچر کو ایک آرٹ مووی ریلیز ہوتی تھی، جو فوراً پاکستان آ جاتی تھی۔ ہم دونوں آرٹ مووی شوق سے دیکھتے تھے، لیکن بعد میں وہاں بھی سب کچھ الٹ پلٹ گیا، اب وہاں بھی بے تکی اور جذبات ابھارنے والی فلمیں بنتی ہیں، لیکن پھر بھی سنجے لیلا بھنسالی کوئی نہ کوئی بہترین فلم پیش کر دیتے ہیں۔
تلسی بٹ کا انٹرویو دیکھ کر مجھے ایک پرانا اور مظلوم کردار یاد آگیا جس کا نام مسعود تھا، شاید میرا ہی ہم عمر تھا، یہی کوئی دس بارہ سال کا گورا رنگ، گلابی ہونٹ اور بڑی بڑی آنکھیں، اس وقت طارق روڈ پر شاپنگ مالز کا جنگل آباد نہیں ہوا تھا، دس بارہ گھر تھے بلاک 2 میں، چھت پر کھڑے ہو کر سارا منظر صاف نظر آتا تھا، مسعود کا سامنے کی لین میں تیسرا گھر تھا، اچھے لوگ تھے، جب کبھی کوئی نذر نیاز ہوتی تو مسعود ہی تمام گھروں میں نیاز لے کر آتا تھا، وہ چھٹی جماعت کا طالب علم تھا، ہمارے گھر سے اگر کہیں نیاز بھیجنی ہوتی تو ہمارے ملازم غازی اور شیر دل لے کر جاتے تھے، دونوں کی دوستی مسعود سے ہو گئی تھی، ایک دن ایسا ہوا کہ مسعود روتا ہوا ہمارے گھر آیا، والدہ اور والد نے رونے کا سبب پوچھا تو اس نے بتایا کہ باپ نے اسے گھر سے نکال دیا ہے، اس کے پاس کوئی ٹھکانہ نہیں تھا، اس لیے وہ یہاں آ گیا۔
وہ مسلسل رو رہا تھا اور گھر سے نکالنے کی وجہ نہ بتا پا رہا تھا۔ میرے والد اور والدہ اسے لے کر اس کے گھر پہنچے تو انکشاف ہوا کہ مسعود خواجہ سرا ہے، اسے اسکول والوں نے بھی نکال دیا ہے، سب کو پتا چل گیا ہے کہ معاملہ کیا ہے، اس کے والد کا کہنا تھا کہ ان کی تین بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں، اگر انھوں نے مسعود کو گھر میں رکھا تو بہنوں کے رشتے نہیں آئیں گے، والدہ البتہ رو رہی تھیں لیکن اسے رکھنے سے قاصر تھیں۔ میرے والدین نے انھیں بہت سمجھایا کہ اس میں مسعود کا کیا قصور ہے، لیکن وہ لوگ نہیں مانے اور اسے چند ہزار روپے دے کر کہا کہ وہ بس میں بیٹھ کر رنچھوڑ لین چلا جائے اور وہاں کسی سے پتا کرے کہ خواجہ سرا کہاں رہتے ہیں؟ میرے والدین مسعود کو گھر لے آئے اور اس کو کہا کہ وہ اب یہیں رہے، ہو سکتا ہے کچھ عرصے بعد والد مان جائیں، لیکن ایسا نہ ہوا بلکہ ہوا یوں کہ اس کے گھر والے اپنی کوٹھی کرائے پر دے کر کہیں اور چلے گئے، مسعود اس دن پھوٹ پھوٹ کے رویا، اب وہ ہمارے گھر کا فرد بن گیا، اسکول وہ جا نہیں سکتا تھا کیونکہ وہاں بچے اور ٹیچر اس کا مذاق اڑاتے تھے، لہٰذا مجھے جو ٹیچر پڑھانے آتے تھے ان سے کہا گیا کہ وہ مسعود کو نویں جماعت کی تیاری کروائیں۔
انھوں نے پہلے آٹھویں جماعت کا کورس اسے پڑھایا، پھر نویں کی تیاری کروانے لگے۔ میری والدہ نے مسعود سے کہا کہ وہ کوئی ہنر سیکھ لے تاکہ زندگی میں کام آئے۔ جب اس نے آمادگی ظاہر کی تو والدہ اسے تھوڑا تھوڑا کرکے کھانا پکانا سکھانے لگیں۔ نویں جماعت کا امتحان دے کر وہ فارغ تھا، اس لیے اس نے بڑی جانفشانی سے کھانا پکانا اور ڈائننگ ٹیبل پہ سرو کرنا سب کچھ سیکھ لیا۔ وہ ہمارے ساتھ ہی کھانا کھاتا، والد، والدہ، دادی اور میرے دونوں بڑے بھائی اس کا بہت خیال رکھتے تھے تاکہ وہ اپنا ماضی بھول جائے۔
کافی وقت گزر چکا تھا لیکن مسعود عید بقر عید پہ بہت اداس ہو جاتا تھا۔ وقت گزرتا رہا اور اس عرصے میں 1966 میں میری والدہ کا انتقال ہو گیا۔ چند ماہ بعد ہی میری سگی دادی اور رشتے کی پھوپھی نے میرے والد کی دوسری شادی کروا دی، اس عورت کی آنکھ میں مسعود کھٹکتا تھا، ہمارے پرانے ملازم غازی اور شیر خان واپس کوہاٹ چلے گئے کیونکہ والد کی دوسری بیوی کا رویہ ان کے ساتھ اچھا نہ تھا۔
وہ میری والدہ کو بہت یاد کیا کرتے تھے، چونکہ مسعود کو کھانا پکانا میری والدہ نے سکھا دیا تھا، وہ قورمہ، حلیم، بریانی، آلو گوشت، شلجم گوشت، نہاری، شب دیگ اور دم کا قیمہ بنانا سیکھ گیا تھا، لیکن کھانا والدہ خود پکاتی تھیں، کیونکہ میرے والد کو صرف امی کے ہاتھ کا کھانا پسند تھا، اب اس خاتون نے آرڈر جاری کر دیا کہ کھانا مسعود پکائے گا، وہ مہارانی بن کر بیٹھتی تھیں۔ اس عرصے میں والد صاحب نے مسعود کو ایک جاننے والے کے ورکشاپ میں لگوا دیا جہاں وہ گاڑیوں کی مرمت کا کام سیکھ رہا تھا، اس نے پرائیویٹ میٹرک اور انٹر کیا اور گیراج میں بھی خوب محنت سے کام کیا۔
میرے والد کے کئی دوست یوکے میں تھے، انھوں نے انھیں خط لکھا اور اس میں مسعود کی پوری کہانی لکھ دی، وہاں سے منصور صاحب کا پازیٹو جواب آ گیا، تب والد صاحب نے مسعود کو سارے حالات سے آگاہ کیا اور کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ مسعود ان کی زندگی میں سیٹ ہو جائے جو مسئلہ اس کے ساتھ تھا، اس میں یہی بہتر تھا کہ وہ پاکستان سے باہر چلا جائے۔ ایک ماہ بعد مسعود برطانیہ چلا گیا، جاتے وقت وہ پھوٹ پھوٹ کر رویا، پھر امی کی قبر پہ گیا اور ایک دن چلا گیا اپنا مستقبل بنانے۔
منصور صاحب اور ان کی بیگم نے اس کا بہت خیال رکھا، چونکہ اسے بہترین کھانا پکانا آتا تھا، اس لیے ایک سردار جی کے ہوٹل میں جاب مل گئی، پھر کچھ عرصے بعد ان سردار جی نے مسعود کو ہوٹل میں رہائش بھی دے دی۔ اس کے ہاتھ کے بنے ہوئے کھانے لوگوں کو بہت پسند آنے لگے، خاص کر آلو گوشت اور چنے کی دال گوشت کے علاوہ اسے یخنی پلاؤ بھی بہترین پکانا آتا تھا۔ سردار جی کی انکم اتنی بڑھی کہ انھوں نے دوسرا ہوٹل بھی کھول لیا، مسعود گوروں کے لیے ہر چیز ہلکی مرچوں کی بناتا تھا، اور دیسی لوگوں کے لیے خوب چٹخارے دار۔ مسعود اکثر والد کو خط لکھتا تھا اور کہتا تھا کہ ان کا فیصلہ بالکل درست تھا، یوکے میں اس کا ٹرانس جینڈر ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا تھا۔ وہ بہت خوش تھا، ایک دن ہمارے گھر ایک صاحبہ آئیں، بھابیاں تو پہچانتی نہیں تھیں لہٰذا انھیں ڈرائنگ روم میں بٹھا کر والد صاحب کو اطلاع دی گئی، وہ مسعود کی والدہ تھیں۔ اس کے والد کا انتقال ہو چکا تھا، بہنوں کی شادیاں ہو چکی تھیں، وہ مسعود سے ملنا چاہتی تھیں اور اپنے کیے پر شرمندہ تھیں۔