کیا شعیب ملک اور ثنا جاوید کی علیحدگی ہونے والی ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
قومی کرکٹ ٹیم کے سابق اسٹار شعیب ملک ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گئے ہیں، تاہم اس بار معاملہ کرکٹ نہیں بلکہ ان کی ذاتی زندگی ہے۔
سوشل میڈیا پر ایک وائرل ویڈیو کے بعد شعیب ملک اور ان کی تیسری اہلیہ، اداکارہ ثنا جاوید کے درمیان علیحدگی کی افواہیں گردش کرنے لگی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: شعیب ملک کی حمایت میں متنازعہ پوسٹس، ثنا جاوید نے خاموشی توڑ دی
ویڈیو میں شعیب ملک مداحوں کو آٹوگراف دیتے نظر آ رہے ہیں جبکہ ثنا جاوید لاتعلق دکھائی دیتی ہیں اور بار بار نظریں چراتی ہوئی رخ موڑ لیتی ہیں۔ اس رویے نے سوشل میڈیا صارفین کی توجہ حاصل کرلی اور بحث چھڑ گئی کہ دونوں کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں۔
شعیب ملک اور ثنا جاوید نے گزشتہ سال شادی کی تھی۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اطلاعات کے مطابق شادی میں شعیب ملک کے گھر والوں نے شرکت نہیں کی تھی اور حالیہ مہینوں میں دونوں کو کسی عوامی تقریب میں اکٹھے نہیں دیکھا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ثانیہ مرزا یا ثنا جاوید، دونوں میں سے زیادہ امیر کون ہے؟
یاد رہے کہ شعیب ملک نے 2023 میں بھارتی ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا سے علیحدگی اختیار کی تھی، جس سے ان کا ایک بیٹا بھی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ثانیہ مرزا نے خلع کے ذریعے شادی ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
فی الحال شعیب ملک اور ثنا جاوید کی جانب سے ان افواہوں پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم مداح اور سوشل میڈیا صارفین ان کے رشتے کے مستقبل کے بارے میں طرح طرح کے قیاس آرائیوں میں مصروف ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news ثنا جاوید شعیب ملک طلاق.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ثنا جاوید شعیب ملک طلاق شعیب ملک اور ثنا جاوید
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔