الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سیاسی جماعتوں کے انٹرا پارٹی انتخابات کی نگرانی کے لیے قانون میں ترمیم کا مطالبہ کرتے ہوئے اس حوالے سےسفارشات کا مسودہ وزارت قانون کو ارسال کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ ترمیم الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعہ 208 میں تجویز کی گئی ہے، جس کا مقصد جماعتوں کے اندر جمہوری عمل کو بہتر بنانا اور انتخابی نظام کو مزید شفاف بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک میں درجنوں سیاسی جماعتیں سرگرم ہیں، لیکن بیشتر کے اندرونی جمہوری ڈھانچے کمزور ہیں۔ ایسے میں انٹراپارٹی انتخابات کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے کمیشن کو نگرانی کا باقاعدہ اختیار دینا ضروری ہے۔ موجودہ قوانین میں ایسی کوئی شق موجود نہیں جو الیکشن کمیشن کو اس عمل کا مشاہدہ کرنے کی اجازت دے۔
ذرائع کے مطابق، کمیشن کی جانب سے تجویز دی گئی ہے کہ افسران پر مشتمل ایک ٹیم سیاسی جماعتوں کے داخلی انتخابات کا مشاہدہ کرے اور اس کی رپورٹ سالانہ رپورٹ کے ساتھ پارلیمنٹ میں پیش کی جائے۔ اس اقدام سے نہ صرف جماعتوں کے اندر جمہوریت کو فروغ ملے گا بلکہ خواتین کی نمائندگی اور شمولیت کو بھی یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔
مزید برآں، ترامیم کا مقصد سیاسی جماعتوں کے اندراج، انتخابی نشانات کی الاٹمنٹ اور خواتین کی موثر شرکت جیسے دیرینہ مسائل کو حل کرنا بھی ہے۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ان تجاویز کی منظوری سےعوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا اور انتخابی نظام کو منظم اور شفاف بنانے میں مدد ملے گی۔
تاہم، ذرائع نے خبردار کیا ہے کہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے ان تجاویز پر سخت ردعمل کا امکان ہے، کیونکہ بعض جماعتیں پہلے ہی انٹراپارٹی انتخابات کی شفافیت اور کمیشن کی مداخلت پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: سیاسی جماعتوں کے الیکشن کمیشن انتخابات کی

پڑھیں:

دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن(Establishment Division) نے دفتری نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ ماحول کو بہتر بنانے کے لیے نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات، بائیومیٹرک حاضری اور لباس کے ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔

جاری کردہ سرکلر کے مطابق تمام ملازمین کے لیے صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے سرکاری اوقاتِ کار پر مکمل عمل درآمد لازمی ہوگا، جبکہ مقررہ وقت پر دفاتر میں حاضری یقینی بنانے کے لیے بائیومیٹرک حاضری کے نظام پر سختی سے عمل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

سرکلر میں سرکاری ملازمین کے لیے ڈریس کوڈ بھی واضح کیا گیا ہے۔ ہدایات کے مطابق افسران اور اہلکار یا تو لاؤنج سوٹ پہنیں یا پھر شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ زیب تن کریں تاکہ دفاتر میں پیشہ ورانہ اور باوقار ماحول برقرار رکھا جا سکے۔

مزیدپڑھیں:آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے راہداریوں میں شور شرابے اور بلند آواز میں گفتگو سے بھی گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، تاکہ سرکاری امور کی انجام دہی کے دوران پرسکون اور منظم ماحول برقرار رہے۔

سرکلر میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تمام ہدایات فوری طور پر نافذ العمل ہیں اور متعلقہ افسران کو ان پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • خیبر پی کے میں بلدیاتی انتخابات 2 مراحل میں ہونے کا امکان 
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن