غیر یقینی معاشی حالات میں شمولیتی ترقی کے مواقع، ریاض میں فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو کانفرنس کی تیاریاں
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو انسٹیٹیوٹ نے اعلان کیا ہے کہ اس کی نمائندہ کانفرنس کے نویں ایڈیشن میں 600 سے زیادہ ممتاز مقررین اور 20 سربراہانِ مملکت شرکت کریں گے۔
یہ انسٹیٹیوٹ کے قیام کے بعد سے اب تک کا سب سے بڑا اور بااثر اجتماع ہوگا، جو سرمایہ کاری، جدت طرازی اور عالمی ترقی کے سنگم پر مکالمے اور عملی اقدامات کے لیے ’ایف آئی آئی 9‘ کی حیثیت کو دنیا کے نمایاں ترین پلیٹ فارم کے طور پر اجاگر کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف سے سعودی سفیر کی ملاقات، ریاض میں 9ویں فیوچر انویسٹمنٹ فورم میں شرکت کی دعوت قبول
یہ کانفرنس 27 تا 30 اکتوبر 2025 کو ریاض میں منعقد ہوگی، جس کا عنوان ’خوشحالی کی کلید‘ ہے۔
اس موقع پر دنیا بھر کے رہنما، سرمایہ کار، پالیسی ساز، سی ای اوز، مؤجدین اور تبدیلی لانے والے افراد ایک ساتھ جمع ہوں گے تاکہ مشترکہ عالمی خوشحالی کے لیے حل تلاش کیے جا سکیں۔
ایف آئی آئی انسٹیٹیوٹ کے ایگزیکٹیو کمیٹی کے چیئرمین اور قائم مقام سی ای او رچرڈ اتیاس نے کہاکہ خوشحالی اقوام، معیشتوں اور افراد کی مشترکہ آرزو ہے۔ 600 سے زیادہ مقررین اور 20 سربراہانِ مملکت کی شرکت اس بات کی عکاس ہے کہ پائیدار ترقی، ٹیکنالوجی میں جدت اور انسانی ترقی کے اگلے دور کی تشکیل کے لیے عملی حکمتِ عملی وضع کرنا کس قدر ضروری ہو چکا ہے۔
ایف آئی آئی کے اس ایڈیشن میں اعلیٰ سطحی اجلاس، انٹرایکٹو فورمز اور مشترکہ ورکنگ گروپس شامل ہوں گے جو اہم مسائل پر توجہ دیں گے جو درج ذیل ہیں۔
• غیر یقینی عالمی معاشی حالات میں شمولیتی ترقی کے مواقع پیدا کرنا۔
• مصنوعی ذہانت اور نئی ٹیکنالوجیز کے ذمہ دارانہ استعمال کو فروغ دینا۔
• ماحولیاتی استحکام اور پائیدار توانائی کی منتقلی کو آگے بڑھانا۔
• اختراع، کاروباری قیادت اور نئی نسل کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا۔
• شمالی و جنوبی دنیا کے درمیان پل تعمیر کر کے مساوات اور مواقع کو فروغ دینا۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب میں فیوچر انویسٹمنٹ انیشیٹو سمٹ، پاک سعودیہ کے لیے کتنی اہم ہوگی؟
فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو اس غیر معمولی عالمی قیادت کے اجتماع کے ذریعے دنیا بھر کے شہریوں کے لیے خوشحالی کی راہیں کھولنے، عملی حل فراہم کرنے، عالمی شراکت داریوں کو فروغ دینے اور انسانیت کی خدمت پر مبنی سرمایہ کاریوں کو آگے بڑھانے کا مقصد رکھتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews ریاض غیر یقینی معاشی حالات فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو کانفرنس وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ریاض غیر یقینی معاشی حالات فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو کانفرنس وی نیوز ترقی کے کے لیے
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔