کراچی میں بے روزگاری سے تنگ اور گھریلو تنازع پر 2 نوجوانوں کی خودکشی
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
شہر قائد کے علاقے اورنگی ٹاؤن میں بے روزگاری سے تنگ جبکہ قائد آباد میں گھریلو تنازع پر دو نوجوانوں نے پھندا لگا کر خودکشی کرلی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق اورنگی ٹاؤن میں بیروزگاری سے تنگ آکر نوجوان نے پھندا لگا کر خودکشی کرلی ۔ تفصیلات کے مطابق اورنگی ٹاؤن کے علاقے ایک نمبر سیکٹر ڈی ون محمد پارک کے قریب گھر سے پھندا لگی لاش ملی۔
پولیس نے موقع معائنہ کے بعد لاش کو تحویل میں لے کر عباسی شہید اسپتال منتقل کیا ۔ جہاں متوفی کی شناخت 17 سالہ مکرم ولد فہیم کے نام سے ہوئی۔
اورنگی ٹاون کے ہیڈ محرر حسیب نے بتایا کہ ابتدائی تفتیش میں واقعہ خودکشی کا معلوم ہواہے ۔ متوفی کے گھر والوں نے پولیس کو بتایا کہ مکرم بیروزگار تھا کہیں کام نہیں مل رہا تھا جس پر اس نے دلبرداشتہ ہوکر گھر میں پھندا لگا کر خودکشی کرلی۔
دوسرا واقعہ قائد آباد میں پیش آیا جہاں گھر میں ایک نوجوان نے پھندا لگاکر خود کشی کرلی۔
ایس ایچ او قائد آباد عنایت مروت نے بتایا کہ لانڈھی داؤد چالی بخت جنرل اسٹور کے قریب گھر میں ایک نوجوان نے پھندا لگا کر خود کشی کی۔
نوجوان کی لاش کو ریسیکو ادارے کی ایمبولینس سے جناح اسپتال منتقل کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ متوفی کی شناخت 18 سالہ احمد خان ولد خالد حسین سے ہوئی۔
ابتدائی اطلاع کے مطابق نوجوان نے گھریلو تنازعہ کے سبب خودکشی کی ہے۔ دونوں نوجوانوں کی لاشوں کو ضابطے کی کارروائی کے بعد ورثا کے حوالے کردیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پھندا لگا کر نوجوان نے بتایا کہ
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔