یو اے ای: غیرملکیوں کی جانب سے اپنے دوستوں کےلیے ویزے جاری کرانے کے نئے ضوابط جاری
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
اماراتی شناخت، شہریت و کسٹم اتھارٹی نے یو اے ای میں مقیم غیرملکیوں کی جانب سے اپنے دوستوں کے لیے وزٹ ویزے جاری کرانے کے نئے ضوابط جاری کردیئے ہیں۔
شناخت و شہریت اتھارٹی کا کہنا ہے کہ امارات میں مقیم کوئی بھی غیرملکی اگر اپنے پہلے درجے کے رشتہ دار کو وزٹ پر بلانے کا خواہش مند ہو تو لازمی ہے کہ اس کی ماہانہ تنخواہ 4 ہزار درھم سے کم نہ ہو۔
اتھارٹی کا مزید کہنا ہے کہ قانونی طورپر مقیم غیرملکی کی جانب سے دوسرے یا تیسرے درجہ کے رشتہ دار کے لیے وزٹ ویزہ جاری کرانے کی صورت میں ماہانہ تنخواہ کی کم از کم حد 8 ہزار درھم مقرر کی گئی ہے۔
امارات میں مقیم غیرملکی دور کے رشتہ دار یا دوست کے لیے ویزہ جاری کرانے کی درخواست دے تو اس صورت میں اس کی ماہانہ تنخواہ کم از کم 15 ہزاردرھم ہونا لازمی ہے۔
خیال رہے اس سے قبل امارات میں 4 نئی اقسام کے وزٹ ویزے متعارف کرائے جاچکے ہیں جن میں منصوعی ذہانت کے ماہرین ، تفریح و تقریبات اور کروز شپ و لیژر بوٹس سے متعلق افراد کی کیٹگری شامل تھی۔
اتھارٹی کا کہنا تھا کہ ضوابط کے مطابق ہر قسم کے ویزے کے لیے قیام کی مدت اور اس میں کی جانے والی توسیع کی شرائط بھی ان کے مطابق طے کی جاتی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) صدر مملکت آصف علی زرداری نے اٹلی کے صدر سرجیو میتاریلا اور اٹلی کے عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد دیتے ہوئے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ آنے والے برسوں میں پاکستان اور اٹلی کے درمیان دوطرفہ تعلقات مزید فروغ پائیں گے۔(جاری ہے)
منگل کو ایوانِ صدر کے پریس ونگ کے مطابق صدر مملکت نے اپنے تہنیتی پیغام میں کہا کہ پاکستان اٹلی کے ساتھ اپنے دیرینہ دوستانہ تعلقات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے جو کہ باہمی اعتماد، تعاون اور امن و خوشحالی کے لیے مشترکہ عزم پر مبنی ہیں۔
انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ آنے والے برسوں میں یہ دوطرفہ تعلقات مزید فروغ پائیں گے۔ صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ اپنے روابط کو بہت اہمیت دیتا ہے اور بین الاقوامی تعاون، مذاکرات اور امن و استحکام کے فروغ کے لیے یورپی یونین میں اٹلی کے تعمیری کردار کو انتہائی سراہتا ہے۔ انہوں نے باہمی دلچسپی کے شعبوں میں پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔