طوفان الاقصیٰ کے دو سال، حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر کل ملک گیر احتجاج ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی:۔ امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پرمنگل 7اکتوبر کوحماس کے طوفان الاقصیٰ کے دو سال مکمل ہونے اور اسرائیل کے خلاف عالمی یوم احتجاج کے سلسلے میں ملک بھر میں صبح11بجے سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا جائے گا۔
اس حوالے سے کراچی میں بھی احتجاج کیا جائے گا اور امریکی سرپرستی میں اسرائیلی جارحیت و دہشت گردی کی مذمت اور اہل غزہ و فلسطین سے اظہار یکجہتی کیا جائے گا، طلبہ، وکلائ، تاجر اور علماءکرام سمیت مختلف شعبہ زندگی سے وابستہ افراد سڑکوں پر نکلیں گے۔
دریں اثناءمنعم ظفر خان نے اتوار کو شاہراہ فیصل پر ہونے والے عظیم الشان اور تاریخی “غزہ مارچ” کی کامیابی اور مارچ میں شہریوں کی لاکھوں کی تعداد میں شرکت پر اہل کراچی کو بھر پور خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان سے اظہار تشکر کیا اور کہا ہے کہ کراچی نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے یہ شہر امت ِ مسلمہ کادھڑکتا ہوا دل ہے ۔
منعم ظفر خان نے کہاکہ کراچی کے مرد و خواتین ، نوجوان، بزرگوں ، بچوں، طلبہ و طالبات، اساتذہ کرام، علما کرام، تاجر، مزدور ومحنت کشوں، وکلائ، ڈاکٹرز، انجینئرز نے شارع فیصل پر جمع ہو کر اتحاد ِ امت کا بھر پور اظہار کیا اور انبیاؑ کی سر زمین فلسطین پر اسرائیل کا غاصبانہ قبضہ مسترد کر دیا ہے اور پوری دنیا کو پیغام دیا ہے کہ عوام حماس کے مجاہدین اور اہل غزہ کے ساتھ ہیں ، فلسطین کا دو ریاستی حل کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا ، صرف ایک ریاست آزاد و فلسطینی ریاست اور ایک قیادت حماس کی قیادت ہے۔
انہوں نے کہاکہ بانی ِ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ کا موقف بھی ہمیشہ یہ ہی رہا ہے کہ اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے اور اسے کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا ۔ پاکستان کا قومی اور اُصولی موقف بھی یہی ہے اور اس سے انحراف کرنے والا غدار تصور کیا جائے گا۔ حماس کی جدو جہد اور قربانیاں قبلہ ¿ اوّل اور فلسطین کی آزادی کی جدوجہد ہے جس کے دوران صرف گزشتہ دو سالوں میں 67ہزار فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے ۔
منعم ظفر خان نے کہا اسرائیل کی تمام تر وحشیانہ کارروائیوں اور جنگی سازو سامان کے باوجود حماس اور اہل غزہ ڈٹے ہوئے ہیں ، ہم حماس کی جدو جہد و مزاحمت، بصیرت و بصارت اور سفارتی حکمت کو بھی سلام پیش کرتے ہیں کہ حماس نے ٹرمپ کے نام نہاد امن فارمولے پر مذاکرات کی آمدگی کا اظہار بھی کیاہے اور ہتھیار بھی نہیں ڈالے ہیں ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کیا جائے گا ہے اور
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔