پنجاب میں بارشوں کے باعث دریاؤں کے بہاؤ میں اضافےکا الرٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پنجاب کی پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے حالیہ بارشوں کے باعث دریاؤں کے بہاؤ میں اضافے کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔
پی ڈی ایم اے کے ترجمان کے مطابق دریائے جہلم میں منگلا اپ اسٹریم پر پانی کی سطح میں نمایاں اضافہ متوقع ہے، جس کی وجہ سے آئندہ 24 گھنٹوں میں وہاں درمیانے درجے کا سیلاب آسکتا ہے۔
دریائے ستلج کے مقام گنڈا سنگھ والا اور دریائے راوی کے ہیڈ سدھنائی پر نچلے درجے کے سیلاب کی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔
ادھر ضلع بہاولپور میں بدترین سیلابی ریلہ گزر چکا ہے، مگر اس نے شدید تباہی کے آثار چھوڑے ہیں۔ ہزاروں مکانات منہدم ہو چکے ہیں جبکہ لاکھوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہیں۔ اب سیلابی پانی میں مچھروں کی افزائش ہو رہی ہے، جو مختلف بیماریوں کا سبب بن رہی ہے۔
ملتان کی تحصیل جلال پور پیر والا میں بھی پانی کی نکاسی کا عمل جاری ہے، تاہم کچھ نشیبی علاقے تاحال زیرِ آب ہیں۔
نوراجہ بھٹہ بند پر پڑنے والے تمام 7 شگاف مکمل طور پر بند کر دیے گئے ہیں۔ سیلاب سے متاثرہ موٹر وے ایم 5 گزشتہ 25 روز سے بند ہے۔
حکام کے مطابق موٹر وے کا 23 کلومیٹر طویل ٹریک 13 سے زائد مقامات پر متاثر ہوا ہے۔ جلد از جلد بحالی کا کام شروع کیا جائے گا، جبکہ اس دوران ٹریفک کو متبادل راستوں کی مدد سے چلایا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک