جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہو گی‘ حکومتِ پنجاب نے15 ستمبر کا حکم نامہ واپس لے لیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
راولپنڈی(اپنے سٹاف رپورٹر سے )حکومتِ پنجاب نے15 ستمبر 2025 کو جاری ہونے والے حکم نامہ کو واپس لے لیاہے جس میں جی ایچ کیو محلہ کیس کی سماعت سینٹرل جیل اڈیالہ کی بجائے انسداد گردی کی خصوصی عدالت راولپنڈی میں ہو گی جس کے بعد جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت عدالت میں ہوئیں ،گزشتہ روز پنجاب حکومت نے نیا حکم نامی جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ 15 ستمبر کا حکم منسوخ قراردیدیا گیا ہے اب جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہی ہو گی،نوٹیفکیشن تمام متعلقہ حکام کو ارسال کردیا گیا ہے،ایڈووکیٹ جنرل پنجاب، پراسیکیوٹر جنرل اور رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ اورانسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی کے جج کو بھی نوٹفیکیش کاپی ارسال کی گئی ہے، آئی جی پنجاب اور آئی جی جیل خانہ جات کو عملدرآمد کی ہدایت کی گئی ہے،ڈپٹی کمشنر اور سی پی او راولپنڈی کو بھی مطلع کردیا گیاسپرنٹنڈنٹ سینٹرل جیل اڈیالہ راولپنڈی کو نوٹیفکیشن بھجوادیا گیا ہے،نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد اب آ ج منگل 7اکتوبر کوجی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہو گی ،استغاثہ کے 3 گواہوں کو طلب کیا گیا ہیگواہوں میں ڈی ایس پی مرزا جاوید،انسپکٹر ناظم شاہ اور انسپکٹر یعقوب شاہ شامل ہیں جو اپنا اپنا بیان ریکارڈ کروائیں گے،کیس کی سماعت انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت کے جج امجد علی شاہ کرینگے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت میں ہو گیا ہے
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔