انسدادِ دہشتگردی عدالت راولپنڈی نے علیمہ خان کے قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
انسدادِ دہشتگردی عدالت راولپنڈی نے پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کے قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔
مقدمہ 26 نومبر کے احتجاج سے متعلق ہے، جو تھانہ صادق آباد میں علیمہ خان سمیت 10 ملزمان کے خلاف درج کیا گیا تھا۔ آج ہونے والی سماعت میں دیگر تمام ملزمان عدالت میں پیش ہوئے، تاہم علیمہ خان حاضر نہ ہوئیں۔
مزید پڑھیں: برطانوی سیکریٹری خارجہ نے عمران خان کو ملک چھوڑنے کی پیشکش کی، علیمہ خان کا انکشاف
ان کی جانب سے وکلا فیصل ملک اور حسنین سنبل نے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی، مگر عدالت نے یہ درخواست مسترد کر دی۔
پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے مؤقف اختیار کیا کہ دونوں وکلا نے علیمہ خان کا وکالت نامہ جمع نہیں کرایا، لہٰذا وہ ان کی جانب سے درخواست نہیں دے سکتے۔
مزید پڑھیں: فیصلہ سازی کور کمیٹی کرتی ہے، علیمہ خان یا گنڈاپور کا سیاسی کردار نہیں، لطیف کھوسہ
عدالت نے پراسیکیوٹر کے مؤقف سے اتفاق کرتے ہوئے استثنیٰ کی درخواست خارج کر دی اور علیمہ خان کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت 11 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔ سماعت انسدادِ دہشتگردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انسدادِ دہشتگردی عدالت راولپنڈی پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان علیمہ خان قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انسداد دہشتگردی عدالت راولپنڈی پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان علیمہ خان قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری ضمانت وارنٹ گرفتاری دہشتگردی عدالت علیمہ خان
پڑھیں:
نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
نیب کیسز سے متعلق سپریم کورٹ نے فیصلہ سیا دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ نیب کیسز سننے کا سپریم کورٹ کو اختیار نہیں ہے، نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اس سماعت کا اختیار ہی نہیں، نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔بانی پی ٹی آئی نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کےخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کر دی تھی۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی، نیب کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھےجائیں گے۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں نیب کے ایک زیر سماعت کیس کے دوران اختیار سماعت کا سوال اٹھا تھا۔نیب قانون میں 5 مارچ 2026 کو ترمیم کی گئی تھی، نیب قانون کی شق 32 اے کے تحت اپیلیں سننے کا اختیار سماعت وفاقی آئینی عدالت کو سونپا گیا تھا۔جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس پر سماعتیں کیں، بنچ میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے۔درخواستگزار کے وکیل عباد الرحمان لودھی نے ضمانت کیس سپریم کورٹ میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، وکیل نے دلائل میں نیب ترمیم کے بعد 18 مارچ 2026 کو سپریم کورٹ میں کیس میں ضمانت دینے کا حوالہ دیا تھا۔اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے نیب اپیلیں اور ضمانت کیسز وفاقی آئینی عدالت میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، اٹارنی جنرل کا مؤقف تھا کیس کا ایک حصہ سپریم کورٹ دوسرا حصہ وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چلایا جاسکتا۔نیب وکیل نے بھی وفاقی حکومت کے موقف کی تائید کی تھی، سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔