بانی تحریک انصاف نے آج وزیراعلی کی تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے؛ بیرسٹر گوہر
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
سٹی 42 : چئیرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی تحریک انصاف نے آج وزیراعلیٰ علی امین کی تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے، اگر کسی صوبے میں حکومت میں تبدیلی یا کوئی اہم اقدام ہو رہا ہے تو وہ بانی پی ٹی آئی کی ہدایت کے مطابق ہی ہوگا۔
حال ہی میں بیرسٹر گوہر نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ خان صاحب کی واضح ہدایت ہے کہ تمام فیصلے پارٹی چیئرمین کی منظوری سے کیے جائیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہمیں خان صاحب کی ہدایات موصول ہو چکی ہیں، اور پارٹی میں تمام فیصلے انہی کی مشاورت سے کیے جاتے ہیں۔
پاکستان میں8 اکتوبر کو آنیوالے تباہ کن زلزلے کو 20 برس بیت گئے، خوفناک یادیں آج بھی ذہنوں پر نقش
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 130(8) کے مطابق، اگر کسی وزیرِ اعلیٰ کو استعفیٰ دینا ہو تو وہ گورنر کو دیا جاتا ہے۔ میں خود اس بات کا مجاز نہیں کہ کسی کا استعفیٰ منظور یا مسترد کروں۔ انہوں نے کہا کہ خان صاحب نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اگر کوئی تبدیلی ہو تو اسے آئینی تقاضوں کے مطابق انجام دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ میں خود تمام اقدامات کی نگرانی کر رہا ہوں اور جو بھی اقدام ہوگا، وہ خان صاحب کی اجازت سے ہی عمل میں آئے گا۔ کبھی کبھار سیاسی عمل میں کوتاہیاں ہو جاتی ہیں، تنقید بھی ہوتی ہے، لیکن خان صاحب نے کہا ہے کہ فیصلے ہمیشہ مشاورت سے کیے جائیں اور ان پر پوری طرح عمل درآمد کیا جائے۔
ڈرائیونگ لائسنس کے اجرا کا سلسلہ جاری، 2 لاکھ 17ہزار سے زائد شہری مستفید
بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ میں نے تمام ساتھیوں سے بات کی ہے اور سب کا مؤقف یہی ہے کہ پارٹی نظم و ضبط اور قیادت کے فیصلوں پر مکمل عمل کیا جائے۔ خان صاحب کی ہدایات ہمارے پاس پہنچ چکی ہیں، اور ہم وہی قدم اٹھائیں گے جو بانی چیئرمین کی جانب سے ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: بیرسٹر گوہر خان صاحب کی نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔